المستدرك على الصحيحين
كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم— صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی معرفت کا بیان
أَوَّلُ مَنْ بَنَى مَسْجِدَ قُبَاءٍ عَمَّارُ بْنُ يَاسِرٍ باب: مسجدِ قباء سب سے پہلے سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ نے تعمیر کی
حدیث نمبر: 5757
فحدثنا أبو عبد الله بن بُطّة الأصبَهاني، حدثنا الحَسن بن الجَهْم، حدثنا الحُسين بن الفَرَج، حدثنا محمد بن عُمر: حدثني موسى بن محمد بن إبراهيم بن التَّيْمي عن أبيه، وحدثني عبد الله بن جعفر المَخْرَمي عن ابن أبي عَون، وحدثني محمد بن صالح عن عاصم بن عُمر، في تسمية مَن آخَى رسولُ الله ﷺ بينَهم من المُهاجِرين والأنصار، قالوا: آخَي رسولُ الله ﷺ بين عمّار بن ياسر وحُذيفة بن اليَمَان - قال عبد الله بن جعفر: إن لم يكن حذيفةُ شَهِدَ بدرًا فإنَّ إسلامَه كان قديمًا - وقالوا جميعًا: شهِدَ عمّار بنُ ياسر بدرًا وأحدًا والخَندقَ والمشاهِدَ كلَّها مع رسول الله ﷺ (1).
حافظ طلحہ بابر
عاصم بن عمر سے ان صحابہ کے ناموں کے متعلق روایت ہے جن کے درمیان رسول اللہ ﷺ نے مہاجرین اور انصار میں سے بھائی چارہ (مواخاۃ) قائم فرمایا تھا، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے سیدنا عمار بن یاسر اور سیدنا حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہما کے درمیان بھائی چارہ قائم فرمایا - عبداللہ بن جعفر کہتے ہیں: اگرچہ سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ بدر میں شریک نہیں ہو سکے تھے لیکن ان کا اسلام بہت قدیم تھا - اور ان سب کا اس بات پر اتفاق ہے کہ سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ بدر، احد، خندق اور رسول اللہ ﷺ کے ہمراہ تمام معرکوں میں شریک رہے۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) انظر "طبقات ابن سعد" 3/ 232 و 4/ 250.
حوالہ / مصدر: دیکھیں: "طبقات ابن سعد" (3/ 232 اور 4/ 250)۔
حوالہ / مصدر: دیکھیں: "طبقات ابن سعد" (3/ 232 اور 4/ 250)۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 5757 سے ماخوذ ہے۔