المستدرك على الصحيحين
كتاب الطهارة— طہارت کا بیان
أَحْكَامُ سُؤْرِ الْهِرَّةِ باب: بلی کے جھوٹے کے احکام۔
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا بَحْر بن نصر قال: قرئَ على ابن وهب: أخبرك مالكُ بن أنس. وحدثنا أبو العباس، حدثنا الحسن بن علي بن عفَّان، حدثنا زيد بن الحُبَاب، حدثنا مالك بن أنس، عن إسحاق بن عبد الله بن أبي طلحة، عن حُميدة بنت عُبيد بن رِفَاعة، عن كَبْشة بنت كعب بن مالك - وكانت تحت ابن أبي قَتَادة -: أنَّ أبا قتادة دخل عليها فَسَكَبَت له وَضُوءًا، فجاءت هرَّةٌ لتشربَ منه فأَصغَى لها أبو قتادة الإناءَ حتى شربت، قالت كبشةُ: فرآني أنظرُ إليه، فقال: أتعجَبِينَ يا بنتَ أخي؟ فقلت: نعم، فقال: إنَّ رسول الله ﷺ قال: "إنها ليست بنَجَسٍ، إنها من الطوَّافِين عليكم والطوَّافات" (2).
هذا حديث صحيح، ولم يُخرجاه، على أنهما على ما أصَّلَاه في تركِه، غيرَ أنهما قد شَهِدَا جميعًا لمالك بن أنس أنه الحَكَمُ في حديث المدنيين، وهذا الحديث ممّا صحَّحه مالك واحتجَّ به في "الموطأ" (1). ومع ذلك فإنَّ له شاهدًا بإسناد صحيح:
کبشہ بنت کعب بن مالک رضی اللہ عنہا (جو ابو قتادہ کے بیٹے کی زوجہ تھیں) بیان کرتی ہیں کہ سیدنا ابو قتادہ رضی اللہ عنہ ان کے پاس تشریف لائے، انہوں نے ان کے لیے وضو کا پانی نکالا، اتنے میں ایک بلی آئی اور اس سے پینے لگی، ابو قتادہ نے برتن اس کی طرف جھکا دیا یہاں تک کہ اس نے پانی پی لیا۔ کبشہ کہتی ہیں کہ انہوں نے مجھے حیرت سے دیکھتے ہوئے دیکھا تو فرمایا: ”اے بھتیجی! کیا تم تعجب کر رہی ہو؟“ میں نے کہا: جی ہاں، تو انہوں نے فرمایا: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے: ”یہ (بلی) ناپاک نہیں ہے، یہ تمہارے اردگرد گھومنے پھرنے والے (خادموں) کی طرح ہے۔“
یہ حدیث صحیح ہے اور امام مالک نے بھی اسے موطا میں بطور حجت ذکر کیا ہے۔
تشریح، فوائد و مسائل
درجۂ حدیث: اس کی سند ان شاء اللہ صحیح ہے۔
وأخرجه أحمد 37/ (22580)، وأبو داود (75)، وابن ماجه (367)، والترمذي (92)، والنسائي (63)، وابن حبان (1299) من طرق عن مالك بن أنس، بهذا الإسناد. وقال الترمذي: حديث حسن صحيح، وانظر تمام تخريجه والكلام عليه في "مسند أحمد".
أصغى: أمالَ.
حوالہ / مصدر: اسے امام احمد (37/ 22580)، ابوداؤد (75)، ابن ماجہ (367)، ترمذی (92)، نسائی (63) اور ابن حبان (1299) نے امام مالک بن انس کے مختلف طرق سے روایت کیا ہے۔
درجۂ حدیث: امام ترمذی نے اسے "حدیث حسن صحیح" قرار دیا ہے۔
نوٹ / توضیح: اس کی مکمل تخریج اور فنی بحث مسند احمد میں دیکھی جا سکتی ہے۔ لفظ "أصغى" کا مطلب ہے "جھکانا یا مائل کرنا"۔
(1) "الموطأ" 1/ 22 - 23.
حوالہ / مصدر: امام مالک کی کتاب "الموطأ" (1/ 22-23)۔