حدیث نمبر: 570
أخبرنا أبو العباس عبد الله بن الحسين القاضي بمَرْو، حدثنا الحارث بن أبي أسامة، حدثنا رَوْح بن عُبادة، حدثنا أبو عامر الخزَّاز، عن عطاء، عن أبي هريرة، أنَّ النبي ﷺ قال: "إذا استَجمَر أحدُكم فليُوتِرْ، فإنَّ الله وترٌ يحبُّ الوترَ، أمَا تَرى السماوات سبعًا، والأَرَضِينَ سبعًا والطوافَ" وذكر أشياءَ (3).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه بهذه الألفاظ، إنما اتَّفقا على "من استجمر فليُوتر" فقط (1).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 561 - منكر والحارث ليس بعمدة
حافظ طلحہ بابر

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی استنجا کے لیے پتھر استعمال کرے تو طاق تعداد میں کرے، کیونکہ اللہ وتر (ایک) ہے اور وتر کو پسند کرتا ہے، کیا تم نہیں دیکھتے کہ آسمان سات ہیں، زمینیں سات ہیں اور طواف بھی (سات چکروں کا) ہے،“ اور آپ ﷺ نے کئی چیزیں ذکر فرمائیں۔
یہ حدیث امام بخاری اور امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے ان الفاظ کے ساتھ روایت نہیں کیا، انہوں نے صرف ”جو پتھر استعمال کرے وہ طاق تعداد میں کرے“ پر اتفاق کیا ہے۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الطهارة / حدیث: 570
تخریج حدیث [ترقيم الرساله 570] [ترقيم الشركة 565] [ترقيم العلميه 561]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(3) أبو عامر الخزاز - وهو صالح بن رستم - مختلف فيه، وهو في الجملة حسن الحديث إلّا إذا خالف أو أتى بما ينكر، وقد تفرَّد في حديث أبي هريرة بهذا اللفظ.
فنی نکتہ / علّت: ابو عامر الخزاز (صالح بن رستم) کے بارے میں اختلاف ہے، عموماً وہ "حسن الحدیث" ہیں بشرطیکہ وہ ثقہ کی مخالفت یا منکر بات نہ کریں۔
اہم نکتہ: وہ حضرت ابوہریرہ کی اس حدیث میں ان مخصوص الفاظ کے ساتھ منفرد ہیں۔
أما الذهبي في "تلخيص المستدرك" فقد قال: منكر، والحارث ليس بعمدة. قلنا: لم ينفرد به الحارث بن أبي أسامة، فقد تابعه عليه محمدُ بن معمر عند ابن حبان في "صحيحه" (1437)

عن روح بن عبادة بهذا الإسناد. وانظر تتمة تخريجه فيه.

فنی نکتہ / علّت: امام ذہبی نے "تلخیص" میں اسے منکر کہا اور حارث کو غیر معتبر قرار دیا، مگر حقیقت یہ ہے کہ حارث بن ابی اسامہ تنہا نہیں بلکہ ابن حبان (1437) میں محمد بن معمر نے ان کی متابعت کی ہے۔
وفي الباب عن جابر عند مسلم (1300) مرفوعًا: "الاستجمار توٌّ، ورمي الجمار توّ، والسعي بين الصفا والمروة توّ، والطواف توّ، وإذا استجمر أحدكم فليستجمر بتوٍّ". والتوُّ: الوِتر.
متابعات و شواہد: اس باب میں حضرت جابر کی مرفوع روایت (مسلم 1300) ہے کہ استجمار، رمی جمار، سعی اور طواف "توّ" (طاق) ہیں۔
نوٹ / توضیح: "التوّ" کا معنی وتر یعنی طاق عدد (1، 3، 5 وغیرہ) ہے۔
(1) أخرجه البخاري (161) ومسلم (237) من طريق أبي إدريس الخولاني، والبخاري (162) من طريق الأعرج، كلاهما عن أبي هريرة.
حوالہ / مصدر: اسے امام بخاری (161، 162) اور امام مسلم (237) نے ابو ادریس الخولانی اور الاعرج کے واسطوں سے حضرت ابوہریرہ سے روایت کیا ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 570 سے ماخوذ ہے۔