المستدرك على الصحيحين
كتاب الطهارة— طہارت کا بیان
لَا يَنْظُرُ الرَّجُلُ إِلَى عَوْرَةِ الرَّجُلِ وَلَا تَنْظُرُ الْمَرْأَةُ إِلَى عَوْرَةِ الْمَرْأَةِ باب: کوئی مرد کسی مرد کی سترگاہ کی طرف نہ دیکھے اور نہ کوئی عورت کسی عورت کی سترگاہ کی طرف دیکھے۔
حدیث نمبر: 569
وسمعت عليَّ بن حَمْشاذ يقول: سمعت موسى بن هارون يقول: رواه الأوزاعي مرتين فقال مرة: عن يحيى عن هلال بن عياض. وقد حدَّثَناه (1) محمد بن الصَّبّاح، حدثنا الوليد عن الأوزاعي، عن يحيى بن أبي كثير، عن رسول الله ﷺ مرسلًا. وقد كان عبد الرحمن بن مَهدِيّ يحدِّث به عياض بن هلال ثم شكَّ فيه فقال: أو هلال بن عياض، رواه عن عبد الرحمن بن مهدي عليُّ بن المَدِيني وعُبيدُ الله بن عمر القواريري ومحمد بن المثنَّى، فاتفقوا على عياض بن هلال، وهو الصواب. قال الحاكم: وقد حَكَمَ به إمامان من أئمَّتنا مثل البخاري وموسى بن هارون بالصحة لقول من أقام هذا الإسنادَ عن عياض بن هلال الأنصاري، وذكر البخاريُّ فيه شواهد فصحَّ به الحديث، وقد خرَّج مسلم معنى هذا الحديث عن أبي كُريب وأبي بكر بن أبي شَيْبة عن زيد بن الحُبَاب عن الضَّحّاك بن عثمان عن زيد بن أسلم عن عبد الرحمن بن أبي سعيد عن أبيه عن النبي ﷺ قال: "لا يَنظُرُ الرجلُ إلى عورة الرجل، ولا تَنظُرُ المرأةُ إلى عورة المرأة" الحديث (2).
حافظ طلحہ بابر
اس روایت کی سند کے بارے میں علماء کا اختلاف ہے کہ راوی کا نام عیاض بن ہلال ہے یا ہلال بن عیاض، لیکن امام بخاری اور موسیٰ بن ہارون نے عیاض بن ہلال کے نام کو صحیح قرار دیا ہے۔
امام حاکم فرماتے ہیں کہ امام بخاری اور موسیٰ بن ہارون نے اسے صحیح قرار دیا ہے، اور امام مسلم نے بھی اس حدیث کے ہم معنی روایت اپنی صحیح میں نقل کی ہے کہ کوئی مرد دوسرے مرد کی شرمگاہ کی طرف نہ دیکھے۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) القائل: وقد حدثناه، هو موسى بن هارون الحافظ. وهذا المرسل أخرجه البيهقي في "السنن" 1/ 100 عن أبي عبد الله الحاكم، بهذا الإسناد. والوليد فيه: هو ابن مسلم.
فنی نکتہ / علّت: عبارت میں "وقد حدثناہ" کہنے والے حافظ موسیٰ بن ہارون ہیں۔
حوالہ / مصدر: یہ مرسل روایت امام بیہقی نے (1/ 100) میں امام حاکم سے نقل کی ہے۔ اس میں "الولید" سے مراد ولید بن مسلم ہیں۔
(2) أخرجه مسلم في "صحيحه" برقم (338). وهذا يشهد للنهي عن كشف العورات.
حوالہ / مصدر: اسے امام مسلم نے (338) پر روایت کیا ہے۔
مجموعی اصول / قاعدہ: یہ روایت ستر پوشی اور پردہ کھولنے کی ممانعت پر شاہد ہے۔
ويشهد للنهي عن التحدث أثناء قضاء الحاجة، حديثُ ابن عمر عند مسلم أيضًا (370): أنَّ رجلًا مرَّ ورسول الله ﷺ يبول فسلَّم، فلم يردَّ عليه. وهذا في ردّ السلام مع كونه واجبًا، فكيف في غيره.
متابعات و شواہد: قضاءِ حاجت کے وقت گفتگو کی ممانعت پر حضرت ابن عمر کی روایت (مسلم 370) شاہد ہے کہ ایک شخص نے نبی ﷺ کو پیشاب کی حالت میں سلام کیا مگر آپ ﷺ نے جواب نہ دیا۔
اہم نکتہ: جب سلام جیسا واجب عمل اس حالت میں ترک کر دیا گیا تو عام گفتگو تو بدرجہ اولیٰ ممنوع ہوگی۔
فنی نکتہ / علّت: عبارت میں "وقد حدثناہ" کہنے والے حافظ موسیٰ بن ہارون ہیں۔
حوالہ / مصدر: یہ مرسل روایت امام بیہقی نے (1/ 100) میں امام حاکم سے نقل کی ہے۔ اس میں "الولید" سے مراد ولید بن مسلم ہیں۔
(2) أخرجه مسلم في "صحيحه" برقم (338). وهذا يشهد للنهي عن كشف العورات.
حوالہ / مصدر: اسے امام مسلم نے (338) پر روایت کیا ہے۔
مجموعی اصول / قاعدہ: یہ روایت ستر پوشی اور پردہ کھولنے کی ممانعت پر شاہد ہے۔
ويشهد للنهي عن التحدث أثناء قضاء الحاجة، حديثُ ابن عمر عند مسلم أيضًا (370): أنَّ رجلًا مرَّ ورسول الله ﷺ يبول فسلَّم، فلم يردَّ عليه. وهذا في ردّ السلام مع كونه واجبًا، فكيف في غيره.
متابعات و شواہد: قضاءِ حاجت کے وقت گفتگو کی ممانعت پر حضرت ابن عمر کی روایت (مسلم 370) شاہد ہے کہ ایک شخص نے نبی ﷺ کو پیشاب کی حالت میں سلام کیا مگر آپ ﷺ نے جواب نہ دیا۔
اہم نکتہ: جب سلام جیسا واجب عمل اس حالت میں ترک کر دیا گیا تو عام گفتگو تو بدرجہ اولیٰ ممنوع ہوگی۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 569 سے ماخوذ ہے۔