المستدرك على الصحيحين
كتاب الطهارة— طہارت کا بیان
لَا يَنْظُرُ الرَّجُلُ إِلَى عَوْرَةِ الرَّجُلِ وَلَا تَنْظُرُ الْمَرْأَةُ إِلَى عَوْرَةِ الْمَرْأَةِ باب: کوئی مرد کسی مرد کی سترگاہ کی طرف نہ دیکھے اور نہ کوئی عورت کسی عورت کی سترگاہ کی طرف دیکھے۔
حدیث نمبر: 568
حدثنا أبو بكر محمد بن عبد الله بن أحمد الحَفِيد، حدثنا الحسين بن الفضل البَجَلي، حدثنا سَلْم بن إبراهيم الورَّاق، حدثنا عِكْرمة بن عمَّار، عن يحيى بن أبي كثير، عن عِيَاض بن هلال قال: حدثني أبو سعيد الخُدْري قال: سمعت رسول الله ﷺ يقول: "لا يخرجِ الرجلان يَضرِبانِ الغائطَ كاشفَين عن عورتهما، فإنَّ الله يَمقُتُ على ذلك" (1).
هذا حديث صحيح من حديث يحيى بن أبي كثير عن عِيَاض بن هلال الأنصاري، وإنما أهملاه لخلاف بين أصحاب يحيى بن أبي كثير فيه، فقال بعضهم: هلال بن عياض، وقد حَكَمَ أبو عبد الله محمد بن إسماعيل في "التاريخ" أنه عياض بن هلال الأنصاري، سمع أبا سعيد، سمع منه يحيى بن أبي كثير. قاله هشام ومَعمَر وعليُّ بن المبارَك وحرب بن شدَّاد عن يحيى بن أبي كثير.
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: ”دو آدمی قضائے حاجت کے لیے اس طرح نہ نکلیں کہ اپنی شرمگاہیں کھول کر باتیں کر رہے ہوں، کیونکہ اللہ تعالیٰ اس پر سخت ناراض ہوتا ہے۔“
یہ حدیث یحییٰ بن ابی کثیر کی روایت سے صحیح ہے اور امام بخاری نے بھی عیاض بن ہلال انصاری کی ابو سعید سے سماعت کی تصدیق کی ہے۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) حسن لغيره، وإسناده ضعيف كسابقه.
درجۂ حدیث: یہ بھی "حسن لغیرہ" ہے اور اس کی اپنی سند پچھلی روایت کی طرح ضعیف ہے۔
وأخرجه ابن ماجه (342/ 1) عن محمد بن يحيى، عن سلم بن إبراهيم الوراق، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے امام ابن ماجہ نے (342/ 1) میں محمد بن یحییٰ عن سلم بن ابراہیم الوراق کی سند سے روایت کیا ہے۔
درجۂ حدیث: یہ بھی "حسن لغیرہ" ہے اور اس کی اپنی سند پچھلی روایت کی طرح ضعیف ہے۔
وأخرجه ابن ماجه (342/ 1) عن محمد بن يحيى، عن سلم بن إبراهيم الوراق، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے امام ابن ماجہ نے (342/ 1) میں محمد بن یحییٰ عن سلم بن ابراہیم الوراق کی سند سے روایت کیا ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 568 سے ماخوذ ہے۔