المستدرك على الصحيحين
كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم— صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی معرفت کا بیان
أَشْبَهُ النَّاسِ هَدْيًا وَسَمْتًا بِالنَّبِيِّ ابْنُ مَسْعُودٍ باب: لوگوں میں سب سے زیادہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے طریقے اور وضع قطع سے مشابہ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ تھے
حدیث نمبر: 5462
أخبرني الحسن بن حَلِيم المَروَزي، أخبرنا أبو المُوجِّه، أخبرنا عَبْدان، أخبرنا عبد الله، أنا مِسعَر، قال: حدثني مَعْن بن عبد الرحمن، عن عون بن عبد الله بن عُتبة، عن أبيه، قال: كان عبد الله إذا هدَأَتِ العيونُ سمعتَ له دَوِيًّا كدَوِيِّ النحل، حتى يُصبح (1).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5377 - سكت عنه الذهبي في التلخيصحافظ طلحہ بابر
عون بن عبد اللہ بن عتبہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی عبادت کا یہ حال تھا کہ جب تمام آنکھیں سو جاتیں تو صبح تک ان کے ہاں سے شہد کی مکھیوں کی بھنبھناہٹ جیسی (تلاوت و گریہ کی) آواز سنائی دیتی تھی۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) رجاله ثقات، لكن المحفوظ أنه من رواية عون بن عبد الله بن عُتبة - وهو ابن مسعود - عن أخيه عُبيد الله بن عبد الله بن عُتبة مرسلًا كما رواه وكيع بن الجراح في "الزهد" (155)، ومن طريقه أخرجه أحمد في "الزهد" (848)، وابن عساكر 33/ 166.
فنی نکتہ / علّت: اس کے رجال (راوی) "ثقہ" ہیں، لیکن "محفوظ" بات یہ ہے کہ یہ عون بن عبداللہ بن عتبہ (ابن مسعود) کی روایت ہے جو وہ اپنے بھائی عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ سے "مرسلاً" بیان کرتے ہیں۔ جیسا کہ اسے وکیع بن الجراح نے "الزہد" (155) میں روایت کیا ہے، اور ان کے طریق سے امام احمد نے "الزہد" (848) اور ابن عساکر (33/ 166) نے روایت کیا ہے۔
وكذلك رواه عَبْدة بن سليمان عند ابن أبي شيبة 2/ 272، كلاهما (وكيع وعبدة) عن مسعر بن كدام.
حوالہ / مصدر: اسی طرح اسے عبدہ بن سلیمان نے ابن ابی شیبہ (2/ 272) کے ہاں روایت کیا ہے۔ یہ دونوں (وکیع اور عبدہ) اسے مسعر بن کدام سے روایت کرتے ہیں۔
أبو الموجِّه: هو محمد بن عمرو بن الموجِّه الفَزَاري، وعَبْدان لقب عبد الله بن عثمان بن جَبَلة المروزي، وعبد الله: هو ابن المبارك، ومَعْن بن عبد الرحمن: هو ابن عبد الله بن مسعود.
فنی نکتہ / علّت: (راویوں کا تعین): ابو الموّجہ سے مراد "محمد بن عمرو بن الموّجہ الفزاری" ہیں، عبدان لقب ہے "عبداللہ بن عثمان بن جبلہ المروزی" کا، عبداللہ سے مراد "ابن المبارک" ہیں اور معن بن عبدالرحمن سے مراد "ابن عبداللہ بن مسعود" ہیں۔
فنی نکتہ / علّت: اس کے رجال (راوی) "ثقہ" ہیں، لیکن "محفوظ" بات یہ ہے کہ یہ عون بن عبداللہ بن عتبہ (ابن مسعود) کی روایت ہے جو وہ اپنے بھائی عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ سے "مرسلاً" بیان کرتے ہیں۔ جیسا کہ اسے وکیع بن الجراح نے "الزہد" (155) میں روایت کیا ہے، اور ان کے طریق سے امام احمد نے "الزہد" (848) اور ابن عساکر (33/ 166) نے روایت کیا ہے۔
وكذلك رواه عَبْدة بن سليمان عند ابن أبي شيبة 2/ 272، كلاهما (وكيع وعبدة) عن مسعر بن كدام.
حوالہ / مصدر: اسی طرح اسے عبدہ بن سلیمان نے ابن ابی شیبہ (2/ 272) کے ہاں روایت کیا ہے۔ یہ دونوں (وکیع اور عبدہ) اسے مسعر بن کدام سے روایت کرتے ہیں۔
أبو الموجِّه: هو محمد بن عمرو بن الموجِّه الفَزَاري، وعَبْدان لقب عبد الله بن عثمان بن جَبَلة المروزي، وعبد الله: هو ابن المبارك، ومَعْن بن عبد الرحمن: هو ابن عبد الله بن مسعود.
فنی نکتہ / علّت: (راویوں کا تعین): ابو الموّجہ سے مراد "محمد بن عمرو بن الموّجہ الفزاری" ہیں، عبدان لقب ہے "عبداللہ بن عثمان بن جبلہ المروزی" کا، عبداللہ سے مراد "ابن المبارک" ہیں اور معن بن عبدالرحمن سے مراد "ابن عبداللہ بن مسعود" ہیں۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 5462 سے ماخوذ ہے۔