المستدرك على الصحيحين
كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم— صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی معرفت کا بیان
ذِكْرُ مَنَاقِبِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ الزُّهْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ باب: سیدنا عبد الرحمن بن عوف زہری رضی اللہ عنہ کے مناقب کا بیان
حدیث نمبر: 5415M
وحدثني مُصعب بن عبد الله، قال: عبدُ الرحمن بن عوف بن عبد الرحمن بن الحارث بن زُهْرة، وأمُّه وأمُّ أخيه الأسود بن عَوف: الشِّفاءُ بنت عَوف بن عبد الحارث بن زُهْرة بن كلاب، وكانت قد هاجرت قبل الفتح، وكان عبد الرحمن اسمُه عبدَ عمرو، فسمَّاهُ النبي ﷺ عبدَ الرحمن (2).
حافظ طلحہ بابر
مصعب بن عبد اللہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عبد الرحمن بن عوف بن عبد الرحمن بن حارث بن زہرہ، اور ان کی اور ان کے بھائی اسود بن عوف کی والدہ شفاء بنت عوف بن عبد الحارث بن زہرہ بن کلاب تھیں، جنہوں نے فتحِ مکہ سے قبل ہجرت فرمائی تھی، اور عبد الرحمن کا نام (پہلے) عبد عمرو تھا جسے نبی کریم ﷺ نے تبدیل فرما کر عبد الرحمن رکھ دیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(2) وهو في "نسب قريش" لمصعب بن عبد الله الزبيري ص 265، غير أنه وقع فيه تسمية جدّ عبد الرحمن بن عوف: عبد عوف بن عبد بن الحارث، وفاقًا لابن إسحاق.
حوالہ / مصدر: (2) اور یہ (حوالہ) مصعب بن عبداللہ الزبیری کی "نسب قریش" (ص 265) میں موجود ہے۔
نوٹ / توضیح: سوائے اس کے کہ اس میں عبدالرحمن بن عوف کے دادا کا نام یوں درج ہوا ہے: 'عبد عوف بن عبد بن الحارث'، جو کہ ابن اسحاق کے قول کے موافق ہے۔
حوالہ / مصدر: (2) اور یہ (حوالہ) مصعب بن عبداللہ الزبیری کی "نسب قریش" (ص 265) میں موجود ہے۔
نوٹ / توضیح: سوائے اس کے کہ اس میں عبدالرحمن بن عوف کے دادا کا نام یوں درج ہوا ہے: 'عبد عوف بن عبد بن الحارث'، جو کہ ابن اسحاق کے قول کے موافق ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 5415 سے ماخوذ ہے۔