حدیث نمبر: 5304
حدثنا أبو عبد الله بن بُطَّة، حدثنا الحَسن، حدثنا الحُسين، حدثنا محمد بن عُمر، قال: وخالدُ بن عُرْفُطة بن أَبرَهةَ بن سِنان (2) بن صَيفِي (3) بن هَيْلَة (4) بن عبد الله بن غَيلان بن أسلُم (5) بن عُذْرة، حَلِيف بني زُهْرة، وكان سعدُ بن أبي وقَّاص سعدُ بن أبي وقَّاص ولَّاه القادسيةَ.
حافظ طلحہ بابر

خالد بن عرفطہ بن ابرہہ بن سنان (ان کا مکمل نسب یہ ہے)، یہ بنو زہرہ کے حلیف تھے اور سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ نے انہیں جنگِ قادسیہ کے موقع پر (اپنا نائب اور) حاکم مقرر کیا تھا۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم / حدیث: 5304
تخریج حدیث [ترقيم الرساله 5304] [ترقيم الشركة 5257]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(2) تحرَّف في النسخ الخطية، إلى: شيبان، إلّا في (ز) فأشار إلى إهمال أوله فصارت: سيبان، والتصويب من مصادر ترجمة خالد وكتب الأنساب.
نوٹ / توضیح: (2) قلمی نسخوں میں یہ نام تحریف ہو کر "شیبان" ہو گیا تھا، سوائے نسخہ (ز) کے جہاں اس کے شروع میں بے نقط ہونے (اہمَال) کا اشارہ ہے تو وہ "سیبان" بن گیا تھا۔ اس کی درستگی "خالد" کے سوانحی مصادر اور کتبِ انساب سے کی گئی ہے۔
(3) تحرَّفت في (ز) و (ص) و (م) إلى: صيل، وفي (ب) إلى: حبيل، وفي المطبوع إلى: حسل، والتصويب من مصادر ترجمة خالد وكتب الأنساب. ووقع في بعضها: صفي، بحذف الياء قبل الفاء، وفي بعضها: صُعَير، وأنه ابن أخي ثعلبة بن صعير. وصحَّح ابن عبد البر في "الاستيعاب" ص 201 أنه ابن صيفي، ونحوه قول ابن الأثير في "أسد الغابة" 1/ 580: الأشهر هو الذي نسبه إلى صيفي بن الهائلة، ويجتمع هو وثعلبة في حَزّاز.
نوٹ / توضیح: (3) نسخہ (ز، ص، م) میں "صیل"، (ب) میں "حبیل" اور مطبوعہ نسخے میں "حسل" تحریف ہو گیا تھا۔ درستگی سوانحی مصادر اور کتبِ انساب سے کی گئی ہے۔ بعض نسخوں میں "صفی" (فاء سے پہلے یاء کے حذف کے ساتھ) اور بعض میں "صُعیر" ہے، اور یہ کہ وہ ثعلبہ بن صعیر کے بھتیجے ہیں۔ ابن عبد البر نے "الاستیعاب" (ص 201) میں صحیح قرار دیا ہے کہ وہ "ابن صیفی" ہیں، اور اسی طرح ابن اثیر نے "اسد الغابہ" (1/ 580) میں کہا: "مشہور یہی ہے کہ ان کا نسب صیفی بن الہائلہ تک ہے، اور وہ اور ثعلبہ ’حزّاز‘ پر جمع ہوتے ہیں۔"
(4) تحرّف في النسخ إلى: هند. والتصويب من مصادر الترجمة، وبعضهم يقول: هائلة، بدل: هيلة.
نوٹ / توضیح: (4) نسخوں میں یہ "ہند" تحریف ہو گیا تھا۔ درستگی مصادرِ ترجمہ سے کی گئی ہے، اور بعض نے "ہیلہ" کی بجائے "ہائلہ" کہا ہے۔
(5) كذلك ضبطه ابن الأثير في "تتمة جامع الأصول" 12/ 342، قال: أسلُم، بضم اللام خلافًا لابن حبيب قلنا: ذلك أنَّ ابن حبيب قال في "مختلف القبائل ومؤتلفها" ص 27: أسلم في قُضاعة: أسلُم - بضم اللام - بن الحافي بن قضاعة، وأسلم - مضمومها - بن القيافة بن غافق بن الشاهد بن عك، وأسلم بن تدول بن تيم اللات بن رفيدة، كلهم مضموم اللام، وكل أسلمَ في العرب (يعني سوى من ذكر) فهو مفتوح اللام .... قلنا: أسلُم هذا هو ابن حَزّاز بن كاهل بن عُذْرة بن سعد بن زيد بن ليث بن سُود بن أسلُم بن الحاف بن قضاعة، كذلك جاء في كتب الأنساب، فأسلُم بضمّ اللام في هذا النسب اثنان، ووقعت نسبة أسلُم الصغير هنا لأبي جدِّه عُذْرة.
نوٹ / توضیح: (5) ابن اثیر نے "تتمہ جامع الاصول" (12/ 342) میں اس کا تلفظ "اسلُم" (لام کے پیش کے ساتھ) بتایا ہے، جو ابن حبیب کے خلاف ہے۔ ہم (محقق) کہتے ہیں: اس کی وجہ یہ ہے کہ ابن حبیب نے "مختلف القبائل ومؤتلفہا" (ص 27) میں کہا: قبیلہ قضاعہ میں "اسلُم" (لام کے پیش کے ساتھ) بن الحافی بن قضاعہ ہے... اور عرب میں ہر اسلم (سوائے مذکورہ کے) لام کے زبر کے ساتھ ہے۔ ہم کہتے ہیں: یہ "اسلُم" دراصل ابن حزّاز بن کاہل بن عذرہ... بن اسلُم بن الحاف بن قضاعہ ہے، اور کتبِ انساب میں ایسا ہی آیا ہے۔ پس اس نسب میں "اسلُم" (پیش کے ساتھ) دو افراد ہیں، اور یہاں چھوٹے اسلُم کی نسبت ان کے پردادا "عذرہ" کی طرف واقع ہوئی ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 5304 سے ماخوذ ہے۔