المستدرك على الصحيحين
كتاب الطهارة— طہارت کا بیان
التَّسْمِيَةُ عِنْدَ الْوُضُوءِ باب: وضو کے آغاز میں بسم اللہ کہنا۔
حدیث نمبر: 526
حدَّثَناه أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا الحسن بن علي بن عفَّان، حدثنا زيد بن الحُبَاب، حدثنا كَثِير بن زيد عن رُبَيح بن عبد الرحمن بن أبي سعيد الخُدْري عن أبيه، عن جدِّه قال: قال رسول الله ﷺ: "لا صلاة لمن لا وضوءَ له، ولا وضوءَ لمن لم يَذكُرِ اسمَ الله عليه" (2).
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اس شخص کی کوئی نماز نہیں جس کا وضو نہیں، اور اس کا وضو نہیں جس نے (وضو کے آغاز میں) اللہ کا نام نہ لیا ہو۔“
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(2) إسناده ضعيف لضعف ربيح بن عبد الرحمن، وفي كثير بن زيد مقال.
درجۂ حدیث: اس کی سند ربیح بن عبدالرحمن کے ضعف کی وجہ سے ضعیف ہے، نیز کثیر بن زید کے بارے میں بھی علمی کلام (مقال) موجود ہے۔
وأخرجه أحمد 17/ (11370)، وابن ماجه (397) من طريق زيد بن الحباب، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے امام احمد نے 17/ (11370) اور ابن ماجہ نے (397) میں زید بن الحباب کے طریق سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وأخرجه أحمد أيضًا 17/ (11371)، وابن ماجه (397) من طريقين آخرين عن كثير بن زيد، به.
حوالہ / مصدر: اسے امام احمد نے (17/ 11371) اور ابن ماجہ نے (397) میں کثیر بن زید کے دو دیگر طرق سے بھی روایت کیا ہے۔
درجۂ حدیث: اس کی سند ربیح بن عبدالرحمن کے ضعف کی وجہ سے ضعیف ہے، نیز کثیر بن زید کے بارے میں بھی علمی کلام (مقال) موجود ہے۔
وأخرجه أحمد 17/ (11370)، وابن ماجه (397) من طريق زيد بن الحباب، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے امام احمد نے 17/ (11370) اور ابن ماجہ نے (397) میں زید بن الحباب کے طریق سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وأخرجه أحمد أيضًا 17/ (11371)، وابن ماجه (397) من طريقين آخرين عن كثير بن زيد، به.
حوالہ / مصدر: اسے امام احمد نے (17/ 11371) اور ابن ماجہ نے (397) میں کثیر بن زید کے دو دیگر طرق سے بھی روایت کیا ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 526 سے ماخوذ ہے۔