حدیث نمبر: 525
أخبرَناه أبو الحسن أحمد بن محمد بن عَبدُوس، حدثنا عثمان بن سعيد، حدثنا أحمد بن صالح، حدثنا ابن أبي فُدَيك، حدثنا محمد بن موسى، عن يعقوب بن أبي سَلَمة، عن أبيه، عن أبي هريرة قال: قال رسول الله ﷺ: "لا صلاةَ لمن لا وضوءَ له، ولا وضوءَ لمن لم يَذكُرِ اسمَ الله عليه" (3).
هذا حديث صحيح الإسناد، وقد احتجَّ مسلم بيعقوب بن أبي سلمة الماجشون، واسم أبي سلمة دينار (1)، ولم يُخرجاه. وله شاهد:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 519 - وهو صحيح الإسناد
حافظ طلحہ بابر

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اس شخص کی کوئی نماز نہیں جس کا وضو نہیں، اور اس کا وضو نہیں جس نے اللہ کا نام نہ لیا ہو۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے اور امام مسلم نے یعقوب بن ابی سلمہ سے احتجاج کیا ہے، لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا اور اس کا شاہد بھی موجود ہے۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الطهارة / حدیث: 525
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «إسناده ضعيف كسابقه» [ترقيم الرساله 525] [ترقيم الشركة 521] [ترقيم العلميه 519]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(3) إسناده ضعيف كسابقه.

وأخرجه ابن ماجه (399) من طريقين عن ابن أبي فديك، بهذا الإسناد. وفيه: يعقوب بن سلمة.

درجۂ حدیث: اس کی سند بھی پچھلی روایت کی طرح ضعیف ہے۔
حوالہ / مصدر: اسے امام ابن ماجہ نے (399) میں ابن ابی فدیک کے دو طرق سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے، جس میں راوی کا نام "یعقوب بن سلمہ" مذکور ہے۔
(1) ونقل الحافظ ابن حجر في "التلخيص الحبير" 1/ 72 - 73 - بعد أن ردَّ كلام الحاكم هذا - عن العلّامة ابن دقيق العيد قوله: لو سُلِّم للحاكم أنه يعقوب بن أبي سلمة الماجشون، واسم أبي سلمة دينار، فيُحتاج إلى معرفة حال أبي سلمة، وليس له ذكر في شيء من كتب الرجال، فلا يكون أيضًا صحيحًا.
فنی نکتہ / علّت: حافظ ابن حجر نے "التلخیص الحبیر" (1/ 72-73) میں امام حاکم کے کلام کو رد کرنے کے بعد علامہ ابن دقیق العید کا یہ قول نقل کیا ہے: "اگر امام حاکم کی یہ بات مان بھی لی جائے کہ یہ یعقوب بن ابی سلمہ الماجشون ہے (اور ابوسلمہ کا نام دینار ہے)، تب بھی ابوسلمہ کے حالاتِ زندگی جاننے کی ضرورت باقی رہے گی، جبکہ کتبِ رجال میں ان کا کوئی ذکر نہیں ملتا، لہٰذا یہ روایت پھر بھی صحیح نہیں ہوگی"۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 525 سے ماخوذ ہے۔