حدیث نمبر: 524
حدثنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب، حدثنا محمد بن نُعَيم ومحمد بن شاذانَ، قالا: حدثنا قتيبة بن سعيد. وأخبرني أبو بكر بن عبد الله، أخبرنا الحسن بن سفيان، حدثنا قُتيبة بن سعيد، حدثنا محمد بن موسى المخزومي، حدثنا يعقوب بن أبي سَلَمة، عن أبيه، عن أبي هريرة، أنَّ رسول الله ﷺ قال: "لا صلاةَ لمن لا وضوءَ له، ولا وضوءَ لمن لم يَذكُرِ اسمَ الله عليه" (2). رواه محمد بن إسماعيل بن أبي فُدَيك عن محمد بن موسى المخزومي:
حافظ طلحہ بابر

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اس شخص کی کوئی نماز نہیں جس کا وضو نہیں، اور اس کا وضو نہیں جس نے (اس کے آغاز میں) اللہ کا نام نہ لیا ہو۔“

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الطهارة / حدیث: 524
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «إسناده ضعيف، يعقوب راويه: هو ابن سلمة الليثي وليس ابن أبي سلمة الماجشون كما وقع للمصنف، وقد تعقبه الحافظ الذهبي في "تلخيصه" وصوَّب أنه يعقوب بن سلمة الليثي وليَّن إسناده، ويعقوب هذا وأبوه مجهولان» [ترقيم الرساله 524] [ترقيم الشركة 520]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(2) إسناده ضعيف، يعقوب راويه: هو ابن سلمة الليثي وليس ابن أبي سلمة الماجشون كما وقع للمصنف، وقد تعقبه الحافظ الذهبي في "تلخيصه" وصوَّب أنه يعقوب بن سلمة الليثي وليَّن إسناده، ويعقوب هذا وأبوه مجهولان
درجۂ حدیث: اس کی سند ضعیف ہے۔
فنی نکتہ / علّت: اس کا راوی یعقوب (بن سلمہ) لیثی ہے نہ کہ یعقوب بن ابی سلمہ الماجشون جیسا کہ مصنف سے چوک ہوئی ہے۔ حافظ ذہبی نے "تلخیص" میں اس پر تعقب کرتے ہوئے درست نشاندہی کی ہے کہ یہ یعقوب بن سلمہ لیثی ہے اور اس کی سند کو کمزور (لین) قرار دیا ہے۔ یہ یعقوب اور اس کا باپ دونوں ہی "مجہول" راوی ہیں۔
وأخرجه أحمد 15/ (9418)، وأبو داود (101) عن قتيبة بن سعيد، بهذا الإسناد. وفيه عندهما: يعقوب بن سلمة. وانظر ما بعده.
حوالہ / مصدر: اسے امام احمد نے 15/ (9418) اور ابوداؤد نے (101) میں قتیبہ بن سعید کے واسطے سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
فنی نکتہ / علّت: ان دونوں کے ہاں نام کی صراحت "یعقوب بن سلمہ" کے طور پر موجود ہے۔ مزید تفصیل کے لیے اگلی روایت دیکھیں۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 524 سے ماخوذ ہے۔