حدیث نمبر: 5156
أخبرنا أبو جعفر البغدادي، حدثنا أبو عُلَاثة، حدثنا أبي، حدثنا ابن لَهِيعة، عن موسى بن جُبير، أنَّ أبا أُمامة بن سهل بن حُنيف أخبره: أنه قَدِمَ الشامَ في عهد مُعاوية، فلقِيَه نفرٌ من أهل الشام، فقالوا: ما قَرابَةُ ما بينَك وبينَ مُعاذ؟ قال: فقلتُ: ابن عمٍّ، قالوا: أفلا تُحدِّثُك بحديثٍ حدَّثَنا به قبل موتِه، ولم يكن حدَّثَنا به قبلَ ذلك؟ فقلتُ: بلى، فقال: حدَّثَنا قبل موتِه أنه سمعَ رسولَ الله ﷺ يقول: "مَن لَقِيَ الله لا يُشركُ به، دَخَلَ الجنةَ" (1).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5079 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
حافظ طلحہ بابر

ابو امامہ بن سہل بن حنیف سے روایت ہے کہ وہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے دور میں شام آئے تو اہل شام کی ایک جماعت ان سے ملی اور پوچھا کہ آپ کا معاذ (بن جبل) کے ساتھ کیا رشتہ ہے؟ میں نے کہا: وہ میرے چچا زاد ہیں، انہوں نے کہا: کیا ہم آپ کو وہ حدیث نہ سنائیں جو انہوں نے اپنی وفات سے قبل ہمیں سنائی تھی اور اس سے پہلے کبھی نہیں سنائی تھی؟ میں نے کہا: کیوں نہیں، تو انہوں نے بتایا کہ معاذ رضی اللہ عنہ نے اپنی وفات سے پہلے بیان کیا کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ”جو شخص اللہ سے اس حال میں ملے کہ اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراتا ہو، وہ جنت میں داخل ہو گیا۔“

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم / حدیث: 5156
درجۂ حدیث محدثین: حديث صحيح
تخریج حدیث «حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف ابن لَهِيعة - وهو عبد الله - وموسى بن جُبير - وهو الأنصاري الحَذّاء - قال عنه ابن حبان بعد أن ذكره في "الثقات": يُخطئ ويخالف. قلنا: وللحديث طرق أُخَر عن مُعاذ بن جبل كما تقدَّم برقم (1315) يصحُّ بها. أبو عُلَاثة: هو محمود ...» [ترقيم الرساله 5156] [ترقيم الشركة 5112] [ترقيم العلميه 5079]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف ابن لَهِيعة - وهو عبد الله - وموسى بن جُبير - وهو الأنصاري الحَذّاء - قال عنه ابن حبان بعد أن ذكره في "الثقات": يُخطئ ويخالف. قلنا: وللحديث طرق أُخَر عن مُعاذ بن جبل كما تقدَّم برقم (1315) يصحُّ بها. أبو عُلَاثة: هو محمود بن عمرو بن خالد الحَرَّاني ثم المصري.
درجۂ حدیث: (1) یہ حدیث (متن) "صحیح" ہے، لیکن یہ مخصوص سند "ضعیف" ہے۔
فنی نکتہ / علّت: اس کی وجہ ابن لہیعہ (عبداللہ) اور موسیٰ بن جبیر (الانصاری الحذاء) کا ضعف ہے۔ ابن حبان نے انہیں "الثقات" میں ذکر کرنے کے بعد فرمایا: "یہ غلطی کرتا ہے اور مخالفت کرتا ہے"۔ ہم کہتے ہیں: اس حدیث کے معاذ بن جبل سے دیگر طرق موجود ہیں جن کی بنا پر یہ صحیح ہے، جیسا کہ نمبر (1315) پر گزر چکا ہے۔ (سند میں) "ابو عُلاثہ" سے مراد محمود بن عمرو بن خالد الحرانی (پھر المصری) ہیں۔
وانظر ما بعده.
نوٹ / توضیح: اور اس کے بعد والی (تحقیق) ملاحظہ کریں۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 5156 سے ماخوذ ہے۔