حدیث نمبر: 5155
قرأتُ في "تاريخ" أحمد بن عبد الله البَرْقي، حدثنا أبو عُبيد القاسم بن سَلَّام، عن هشام بن الكَلْبي في قول النبي ﷺ: "وإن أول دَمٍ أَضَعُه دمُ ربيعة بن الحارث"، كان مُسترضَعًا في بني لَيثٍ فقَتَلَتْه هُذَيلٌ (1). قال هشامٌ: لم يُقتَل ربيعةُ، فإنه عاشَ بعد النبيِّ ﷺ إلى خِلافة عمرَ، والذي قَتَلتْه هُذَيلٌ غيرُه. ذكرُ مناقب سعيد بن الحارث بن عبد المُطَّلب ﵁ -
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5078 - حذفه الذهبي من التلخيص لضعفه
حافظ طلحہ بابر

ہشام بن کلبی رسول اللہ ﷺ کے اس ارشاد «وإن أول دَمٍ أَضَعُه دمُ ربيعة بن الحارث» ”اور پہلا خون جسے میں (زمانہ جاہلیت کا بدلہ ہونے کی بنا پر) ختم کرتا ہوں وہ ربیعہ بن حارث کا خون ہے“ کے متعلق فرماتے ہیں کہ ان کا بیٹا بنو لیث میں دودھ پیتا تھا جسے بنو ہذیل نے قتل کر دیا تھا۔ ہشام کہتے ہیں کہ ربیعہ شہید نہیں ہوئے تھے بلکہ وہ نبی کریم ﷺ کے بعد سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی خلافت تک زندہ رہے، ہذیل کے ہاتھوں جو قتل ہوئے تھے وہ ان کے بیٹے تھے۔
سیدنا سعید بن حارث بن عبد المطلب رضی اللہ عنہ کے مناقب کا ذکر:

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم / حدیث: 5155
درجۂ حدیث محدثین: هشام بن الكلبي: هو هشام بن محمد بن السائب الكلبي
تخریج حدیث «هشام بن الكلبي: هو هشام بن محمد بن السائب الكلبي، وهو متروك، وخبره هذا مُعضَل، لكن صحَّ الخبر موصولًا من حديث جابر بن عبد الله عند مسلم (1218)، وأبي داود (1905)، وابن ماجه (3074)، وابن حبان (1457) و (3944)، وقد وقع في أكثر الروايات: "دم ابن ربيعة بن الحارث"، وفي ...» [ترقيم الرساله 5155] [ترقيم الشركة 5111] [ترقيم العلميه 5078]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) هشام بن الكلبي: هو هشام بن محمد بن السائب الكلبي، وهو متروك، وخبره هذا مُعضَل، لكن صحَّ الخبر موصولًا من حديث جابر بن عبد الله عند مسلم (1218)، وأبي داود (1905)، وابن ماجه (3074)، وابن حبان (1457) و (3944)، وقد وقع في أكثر الروايات: "دم ابن ربيعة بن الحارث"، وفي بعضها كما وقع هنا: "دم ربيعة".
درجۂ حدیث: (1) ہشام بن الکلبی (ہشام بن محمد بن السائب الکلبی) "متروک" راوی ہے، اور اس کی یہ خبر "معضل" (منقطع) ہے۔
اہم نکتہ: لیکن یہ خبر "موصول" طریقے سے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کی حدیث سے صحیح ثابت ہے جو صحیح مسلم (1218)، ابوداؤد (1905)، ابن ماجہ (3074) اور ابن حبان (1457، 3944) میں موجود ہے۔
تفصیلِ روایت: اکثر روایات میں الفاظ "ربیعہ بن حارث کے بیٹے کا خون" آئے ہیں، جبکہ بعض روایات (جیسے یہاں ہے) میں "ربیعہ کا خون" کے الفاظ ہیں۔
قال الطبراني في ذيل "المُذيَّل" كما في "منتخبه" لعُريب القرطبي 11/ 528: إنما قال النبي ﷺ: "إِنَّ أول دم أضعُه دم ربيعة بن الحارث" وربيعة حيٌّ، لأنَّ ذلك كان دمًا لربيعة الطلبُ به في الجاهلية، وذلك أنَّ ابنًا لربيعة صغيرًا كان مسترضَعًا في بني ليث بن بكر، وكان بين هذيل وبين ليث بن بكر حرب، فخرج ابن ربيعة بن الحارث، وهو طفل يَحبُو أمام البيوت، فرَمَتْه هُذيلٌ بحجرٍ، فأصابه الحجر فرضخ رأسه، فجاء الإسلام قبل أن يثأر ربيعة بن الحارث بدم ابنه، فأبطل النبي ﷺ الطلبَ بذلك الدم، فلم يجعل لربيعة السبيل على قاتل ابنه …
نوٹ / توضیح: طبرانی نے "المذیل" کے ذیل میں (جیسا کہ عریب القرطبی کے منتخب [11/ 528] میں ہے) فرمایا: نبی ﷺ نے فرمایا "پہلا خون جسے میں ختم کرتا ہوں وہ ربیعہ بن حارث کا خون ہے"، حالانکہ ربیعہ اس وقت زندہ تھے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ وہ خون تھا جس کا قصاص لینے کا حق ربیعہ کو جاہلیت میں تھا۔ واقعہ یہ تھا کہ ربیعہ کا ایک چھوٹا بیٹا بنو لیث بن بکر میں دودھ پینے کے لیے بھیجا گیا تھا۔ بنو ہذیل اور بنو لیث کے درمیان جنگ تھی۔ ربیعہ بن حارث کا بیٹا جو ابھی بچہ تھا اور گھروں کے سامنے گھٹنوں کے بل چل رہا تھا، نکلا تو ہذیل نے اسے پتھر مارا جس سے اس کا سر کچل گیا۔ اسلام آ گیا اس سے پہلے کہ ربیعہ اپنے بیٹے کے خون کا بدلہ لیتے، تو نبی ﷺ نے اس خون کے مطالبے کو باطل قرار دیا اور ربیعہ کے لیے بیٹے کے قاتل پر کوئی راہ (قصاص کی) باقی نہ رکھی۔
قلنا: فزال بذلك الإشكال الذي استشكله هشام بن الكلبي بإثره.
اہم نکتہ: ہم کہتے ہیں: اس وضاحت سے وہ اشکال دور ہو گیا جو ہشام بن الکلبی کو پیش آیا تھا۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 5155 سے ماخوذ ہے۔