المستدرك على الصحيحين
كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم— صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی معرفت کا بیان
ذِكْرُ الِاخْتِلَافِ فِي اسْمِ أَبِي حُذَيْفَةَ باب: سیدنا ابو حذیفہ رضی اللہ عنہ کے نام کے بارے میں اختلاف کا بیان
حدیث نمبر: 5063
حدثَناهُ أبو إسحاق وأبو الحسين قالا حدثنا محمد بن إسحاق، حدثنا زياد بن أيوب، حدثنا هُشَيم، قال: يونسُ أخبرنا عن عِكْرمة: أن أبا حُذيفة بن عُتبة كان يُقال له: حِسْل أو عِسْل (1). وقيل: إنَّ اسمَه مِقسمٌ.
حافظ طلحہ بابر
عکرمہ سے مروی ہے کہ سیدنا ابوحذیفہ بن عتبہ کو ”حسل“ یا ”عسل“ کہا جاتا تھا۔ ایک قول یہ بھی ہے کہ ان کا نام ”مقسم“ ہے۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) كذا وقع في رواية المصنّف هذا أيضًا بتقييد أبي حذيفة بابن عُتبة، وإنما قال عكرمة هذا في اليمان والد حذيفة كذلك، كما توضحه رواية أبي نُعيم الأصبهاني في "معرفة الصحابة" (2297) من طريق يعقوب بن إبراهيم الدورقي عن هُشَيم - وهو ابن بشير - عن يونس - وهو ابن عُبيد - عن عكرمة: أنَّ أبا حذيفة بن اليمان قُتل يوم أُحُدٍ، قتلَه رجلٌ من المسلمين، وهو يرى أنه من المشركين، فودَاهُ رسولُ الله ﷺ من عنده قال: وكان اسمه حُسيل بن اليمان أو حِسل. وظهر بذلك أنَّ عكرمة قال: حُسَيل أو حِسْل، يعني مصغّرًا أو مكبّرًا، ولم يقل: عِسل، بالعين المهملة بدل الحاء المهملة، والله أعلم.
فنی نکتہ / علّت: مصنف کی روایت میں یہاں بھی ابوحذیفہ بن عتبہ کا نام غلطی سے آ گیا ہے، جبکہ عکرمہ کا یہ قول حذیفہ بن الیمان کے والد کے بارے میں تھا (جن کا نام حسل یا حسیل تھا)۔
نوٹ / توضیح: ابونعیم کی روایت سے واضح ہوتا ہے کہ نام "حِسل" یا "حُسیل" ہے (ح کے ساتھ)، اسے "عِسل" (ع کے ساتھ) پڑھنا غلطی ہے۔
فنی نکتہ / علّت: مصنف کی روایت میں یہاں بھی ابوحذیفہ بن عتبہ کا نام غلطی سے آ گیا ہے، جبکہ عکرمہ کا یہ قول حذیفہ بن الیمان کے والد کے بارے میں تھا (جن کا نام حسل یا حسیل تھا)۔
نوٹ / توضیح: ابونعیم کی روایت سے واضح ہوتا ہے کہ نام "حِسل" یا "حُسیل" ہے (ح کے ساتھ)، اسے "عِسل" (ع کے ساتھ) پڑھنا غلطی ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 5063 سے ماخوذ ہے۔