المستدرك على الصحيحين
كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم— صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی معرفت کا بیان
لَمْ يَكُنْ فِي وَلَدِ عَلِيٍّ أَشْبَهُ بِرَسُولِ اللَّهِ مِنَ الْحَسَنِ . باب: سیدنا حسن بن علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے فضائل، نیز ان کی ولادت اور شہادت کا بیان — اولادِ علی میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سب سے زیادہ مشابہ سیدنا حسن رضی اللہ عنہ تھے
حدثنا أبو الحسن علي بن محمد الشَّيباني بالكوفة، حدثنا إبراهيم بن إسحاق الزُّهري، حدثنا جعفر بن عَوْن، حدثنا يونس بن أبي إسحاق، عن أبيه، عن هانئ بن هانئ، عن عليّ، قال: لما أن وُلِدَ الحسنُ سمّيتُه حَرْبًا، فقال لي النبي ﷺ: "ما سمَّيتَ ابني؟ " قلت: حَرْبًا، قال: "هو الحَسن"، فلما وُلِد الحُسين سمّيتُه حَرْبًا، فقال النبي ﷺ: "ما سميت ابني؟ " قلت: حَرْبًا، قال: "هو الحُسين"، فلما أن وُلِد مُحسِّن قال: "ما سمَّيتَ ابني؟ " قلت: حَرْبًا، قال: "هو مُحسن"، ثم قال النبي ﷺ: "إني سميتُ بَني هؤلاء بتسمية هارون بنيهِ شَبَّرًا وشَبِيرًا ومُشَبِّرًا" (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يخرجاه. [ومن فضائل الحسن بن علي بن أبي طالب ﵁ وذكر مولده ومقتله]
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب حسن کی ولادت ہوئی تو میں نے ان کا نام ”حرب“ رکھا، نبی کریم ﷺ نے مجھ سے دریافت فرمایا: ”تم نے میرے بیٹے کا کیا نام رکھا ہے؟“ میں نے عرض کیا: حرب، آپ ﷺ نے فرمایا: ”(نہیں) وہ حسن ہے“، پھر جب حسین کی ولادت ہوئی تو میں نے ان کا نام ”حرب“ رکھا، نبی کریم ﷺ نے دریافت فرمایا: ”تم نے میرے بیٹے کا کیا نام رکھا ہے؟“ میں نے عرض کیا: حرب، آپ ﷺ نے فرمایا: ”(نہیں) وہ حسین ہے“، پھر جب محسن کی ولادت ہوئی تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم نے میرے بیٹے کا کیا نام رکھا ہے؟“ میں نے عرض کیا: حرب، آپ ﷺ نے فرمایا: ”وہ محسن ہے“، پھر نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”میں نے اپنے ان بیٹوں کے نام ہارون علیہ السلام کے بیٹوں کے ناموں پر شبر، شبیر اور مشبر رکھے ہیں۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
درجۂ حدیث: یہ حدیث "منکر" ہے جیسا کہ اس کا بیان نمبر (4829) کے تحت گزر چکا ہے۔