المستدرك على الصحيحين
كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم— صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی معرفت کا بیان
وَمِنْ فَضَائِلِ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - ، وَذِكْرُ مَوْلِدِهِ وَمَقْتَلِهِ . باب: سیدنا حسن بن علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے فضائل، نیز ان کی ولادت اور شہادت کا بیان
حدثنا أبو عبد الله محمد بن عبد الله الزاهد الأصبهاني، حدثنا أحمد بن مهران، حدثنا عبيد الله بن موسى، أخبرنا كامل بن العلاء، عن أبي صالح، عن أبي هريرة، قال: كنا نصلي مع رسول الله ﷺ العشاء، فكان يُصلِّي فإذا سجد وَثَبَ الحَسَنُ والحسينُ على ظهره، وإذا رفع رأسه أخذهما فوضعهما وَضعًا رفيقًا، فإذا عاد عادَ عادا، فلما صلّى جعل واحدًا هاهنا وواحدًا هاهنا، فجئته، فقلتُ: يا رسول الله، ألا أذهبُ بهما إلى أُمّهما؟ قال: "لا" فَبَرَقَتْ بَرْقةٌ، فقال: "الْحَقا بأُمِّكُما"، فما زالا يَمْشِيان في ضَوْئها حتى دَخَلا (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4782 - صحيحسیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ عشاء کی نماز پڑھ رہے تھے، آپ ﷺ جب سجدہ کرتے تو حسن اور حسین (رضی اللہ عنہما) آپ ﷺ کی پشت پر سوار ہو جاتے، جب آپ ﷺ سر اٹھاتے تو انہیں نہایت نرمی کے ساتھ پکڑ کر نیچے بٹھا دیتے، جب آپ ﷺ دوبارہ سجدے میں جاتے تو وہ بھی دوبارہ پشت پر آ جاتے، جب آپ ﷺ نماز سے فارغ ہوئے تو ایک کو اپنے ایک طرف اور دوسرے کو دوسری طرف بٹھا دیا، میں نے حاضر ہو کر عرض کیا: اے اللہ کے رسول ﷺ! کیا میں انہیں ان کی والدہ کے پاس چھوڑ آؤں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”نہیں“، اتنے میں بجلی چمکی تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اپنی والدہ کے پاس چلے جاؤ“، پس وہ دونوں اس بجلی کی روشنی میں چلتے رہے یہاں تک کہ گھر میں داخل ہو گئے۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
درجۂ سند: یہ سند کامل بن العلاء اور احمد بن مہران (جو ابن خالد الاصبہانی ہیں) کی وجہ سے "حسن" ہے۔ ابوصالح سے مراد "ذکوان السمان" ہیں۔
وأخرجه أحمد 16 / (106589) عن أسود بن عامر وأبي المنذر إسماعيل بن عمر، و (10660) عن أبي أحمد محمد بن عبد الله الزُّبَيري، ثلاثتهم عن كامل بن العلاء، به.
تخریج / حوالہ جات: اسے امام احمد نے (16/ 10658، 10659) میں اسود بن عامر اور ابوالمنذر اسماعیل بن عمر سے، اور (10660) میں ابواحمد محمد بن عبداللہ الزبیری سے روایت کیا ہے۔ یہ تینوں راوی اسے کامل بن العلاء سے، اسی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں۔ (نوٹ: عربی متن میں نمبر 106589 کتابت کی غلطی معلوم ہوتی ہے، سیاق کے لحاظ سے یہ 10658 اور 10659 ہیں)۔