حدیث نمبر: 4620
حَدَّثَنَا أبو العباس، حَدَّثَنَا أحمد بن عبد الجبار، حَدَّثَنَا عبد الله بن إدريس، عن الحسن بن فُرات القَزّاز، عن أبيه، عن عُمير بن سعيد، قال: أراد عليّ أن يَسيرَ إلى الشام إلى صِفِّين، اجتمعتِ النَّخَعُ حتَّى دخَلُوا على الأشتَر بيتَه، فقال: هل في البيت إلَّا نَخَعيٌّ؟ قالوا: لا، قال: إِنَّ هذه الأمةَ عَمَدَت إلى خيرِ أهلِها فقتَلُوه - يعني عثمانَ - وإنَّا قاتلْنا أهلَ البصرةِ ببيعةٍ تأوّلْنا عَينَه (1)، وإنكم تَسِيرون إلى قومٍ ليس لنا عليهم بيعةٌ، فلينظُر امرؤٌ أين يضعُ سيفَه (2).
هذا حديثٌ وإن لم يكن له سندٌ فإنه مَعقِدٌ، صحيح الإسناد، في هذا المَوضِع. ومن مناقب أمير المؤمنين علي بن أبي طالب ﵁ ممّا لم يُخرجاه
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4571 - على شرط مسلم
حافظ طلحہ بابر

عمیر بن سعید سے روایت ہے، انہوں نے کہا: جب سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے شام میں (جنگ) صفین کی طرف جانے کا ارادہ کیا، تو قبیلہ نخع کے لوگ جمع ہو کر مالک اشتر کے گھر پہنچے، اشتر نے پوچھا: کیا گھر میں کوئی غیر نخعی بھی ہے؟ لوگوں نے کہا: نہیں، تو انہوں نے کہا: اس امت نے اپنے بہترین شخص (عثمان رضی اللہ عنہ) کا قصد کیا اور انہیں قتل کر دیا، اور ہم نے اہل بصرہ سے اس بیعت کی بنا پر جنگ کی جس کی ہم نے اپنی سمجھ کے مطابق تاویل کی تھی، اور اب تم ایسے لوگوں کی طرف جا رہے ہو جن کی بیعت ہماری گردن پر نہیں ہے، لہذا ہر شخص کو دیکھ لینا چاہیے کہ وہ اپنی تلوار کہاں رکھے گا۔
یہ حدیث اگرچہ (بظاہر) بغیر سند کے ہے مگر اس مقام پر اس کی سند صحیح ہے۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم / حدیث: 4620
تخریج حدیث [ترقيم الرساله 4620] [ترقيم الشركة 4597] [ترقيم العلميه 4571]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) الظاهر أنَّ معناه: تأولنا عين ذلك القتال، فلا تتجاوزوه إلى غيره.
نوٹ / توضیح: (1) ظاہر ہے کہ اس کا معنی ہے: ہم نے اس لڑائی کی حقیقت/ذات کی تاویل کی، لہٰذا اسے کسی اور پر محمول نہ کرو۔
(2) خبر صحيح، وهذا إسناد حسن من أجل أحمد بن عبد الجبار - وهو العُطاردي. وقد توبع.
درجۂ حدیث: (2) یہ خبر صحیح ہے، اور یہ سند احمد بن عبد الجبار (العطاردی) کی وجہ سے "حسن" ہے، اور ان کی متابعت کی گئی ہے۔
وأخرجه ابن أبي شيبة 11/ 112 و 15/ 265، وابن عساكر في "تاريخ دمشق" 56/ 386 من طريق عبد الله بن إدريس، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے ابن ابی شیبہ (11/ 112، 15/ 265) اور ابن عساکر نے "تاریخ دمشق" (56/ 386) میں عبد اللہ بن ادریس کے طریق سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 4620 سے ماخوذ ہے۔