المستدرك على الصحيحين
كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم— صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی معرفت کا بیان
مَرَاثِي عُثْمَانَ - رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ - . باب: سیدنا عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے مرثیے
حَدَّثَنَا أبو بكر بن أبي دارِم، حَدَّثَنَا الحسين بن أبي الأحوص الثَّقَفي، حَدَّثَنَا محمد بن إسحاق البَلْخي، حَدَّثَنَا عبد الرحمن بن مَغْراء، عن مُجالِد، عن الشَّعْبِي، قال: ما سمعتُ من مَراثي عثمان شيئًا أحسنَ من قول كعب بن مالك: فكَفَّ يدَيه ثم أغلَقَ بابَهُ … وأيقَنَ أنَّ الله ليس بغَافلِ وقال لأهل الدار: لا تَقتُلوهُمُ … عفا اللهُ عن كلِّ امرئ لم يُقاتِلِ فكيف رأيتَ الله صَبَّ عليهمُ ال … عَداوةَ والبغضاءَ بعد التَّواصُلِ وكيفَ رأيتَ الخيرَ أدبرَ بعدَه … عن الناسِ إدْبارَ الرِّياحِ الحوافِلِ (4)
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4565 - سكت عنه الذهبي في التلخيصامام شعبی رحمہ اللہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے سوگ میں کہے گئے اشعار اشعار میں سے کعب بن مالک رضی اللہ عنہ کے ان اشعار سے بہتر کوئی کلام نہیں سنا: ”پس انہوں نے اپنے ہاتھ روک لیے اور اپنا دروازہ بند کر لیا، اور انہیں اس بات کا یقین تھا کہ اللہ غافل نہیں ہے، اور انہوں نے اپنے گھر والوں سے کہا: ان لوگوں کو قتل نہ کرو، اللہ ہر اس شخص سے درگزر فرمائے جو نہیں لڑا، پس تم نے دیکھا کہ اللہ نے ان کے درمیان باہمی تعلق کے بعد کس طرح دشمنی اور بغض ڈال دیا، اور تم نے دیکھا کہ ان کے بعد بھلائی لوگوں سے اس طرح پیٹھ پھیر گئی جیسے تیز ہوائیں پیٹھ پھیر لیتی ہیں۔“
تشریح، فوائد و مسائل
درجۂ حدیث: (4) اس کی سند سخت ضعیف (ضعیف جداً) ہے۔
فنی نکتہ / علّت: محمد بن اسحاق البلخی حافظ ہونے کے باوجود جھوٹ کا متہم ہے۔ اور ابن ابی دارم بھی حافظ ہونے کے باوجود قابل اعتماد نہیں، خود مصنف نے اسے "غیر ثقہ" کہا ہے، لیکن وہ اس میں منفرد نہیں بلکہ اس کی متابعت کی گئی ہے، لہٰذا معاملہ محمد بن اسحاق البلخی پر آ کر رک جاتا ہے۔ اور مجالد (ابن سعید) بھی قوی نہیں ہے۔ مذکورہ اشعار حسان بن ثابت، مغیرہ بن اخنس اور ولید بن عقبہ کی طرف بھی منسوب کیے گئے ہیں۔
وأخرجه ابن عساكر في "تاريخ دمشق" 39/ 537 من طريق القاسم بن محمد الدلال، عن محمد بن إسحاق البَلْخي، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے ابن عساکر (39/ 537) نے قاسم بن محمد الدلال کے طریق سے محمد بن اسحاق البلخی سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔