حدیث نمبر: 449
فأخبرَناه علي بن عبد الله الحَكِيمي ببغداد، حدثنا العباس بن محمد الدُّوري، حدثنا ثابت بن محمد العابدُ، حدثنا سفيان، عن عبد الرحمن بن زياد، عن عبد الله بن يزيد، عن عبد الله بن عمرو قال: قال رسول الله ﷺ: "ليأتيَنَّ على أُمَّتِي ما أَتى على بني إسرائيل مِثلًا بمِثْل، حَذْوَ النعلِ بالنعل، حتى لو كان فيهم مَن نَكَحَ أمَّه علانيةً، كان في أمَّتي مثلُه. إنَّ بني إسرائيل افتَرَقوا على إحدى وسبعين مِلَّةً، وتفترقُ أمَّتي على ثلاث وسبعين مِلَّةً، كلُّها في النار إلّا مِلَّةً واحدة" فقيل له: ما الواحدة؟ قال: "ما أنا عليه اليومَ وأصحابي" (2). وأما حديث عمرو بن عوف المُزَنيّ:
حافظ طلحہ بابر

سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”میری امت پر وہی حالات آئیں گے جو بنی اسرائیل پر آئے تھے، بالکل برابر، یہاں تک کہ اگر ان میں کسی نے اعلانیہ اپنی ماں سے نکاح کیا ہوگا تو میری امت میں بھی ایسا کرنے والا موجود ہوگا۔ بنی اسرائیل اکہتر (71) ملتوں میں بٹ گئے تھے اور میری امت تہتر (73) ملتوں میں بٹ جائے گی، سوائے ایک کے سب آگ میں ہوں گی۔“ پوچھا گیا: ”وہ ایک کون سی ہے؟“ فرمایا: ”جس پر آج میں اور میرے صحابہ ہیں۔“
اس کی سند میں عبدالرحمن بن زیاد افریقی ہیں، امام حاکم نے اسے تائیدی روایت کے طور پر ذکر کیا ہے۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب العلم / حدیث: 449
درجۂ حدیث محدثین: حسن لغيره
تخریج حدیث «حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف عبد الرحمن بن زياد: وهو ابن أنعُم الإفريقي» [ترقيم الرساله 449] [ترقيم الشركة 443]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(2) حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف عبد الرحمن بن زياد: وهو ابن أنعُم الإفريقي.
درجۂ حدیث: یہ حدیث حسن لغیرہ ہے، تاہم یہ مخصوص سند عبدالرحمن بن زیاد بن انعم الافریقی کے ضعف کی وجہ سے ضعیف ہے۔
سفيان: هو الثوري، وعبد الله بن يزيد: هو أبو عبد الرحمن الحُبُلي.
فنی نکتہ / علّت: سند میں مذکور "سفیان" سے مراد سفیان ثوری ہیں اور "عبد اللہ بن یزید" سے مراد ابوعبدالرحمن الحُبلی ہیں۔
وأخرجه الترمذي (2641) من طريق أبي داود الحَفَري، عن سفيان الثوري، بهذا الإسناد.

ويشهد له ما بعده.

حوالہ / مصدر: اسے امام ترمذی نے (2641) میں ابوداؤد الحفری عن سفیان ثوری کے طریق سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
متابعات و شواہد: مابعد کی روایات اس کے لیے شاہد ہیں۔
ويشهد للشطر الأول منه حديث أبي هريرة السالف برقم (106)، وحديث ابن عباس الآتي برقم (8610)، وغيرهما.
متابعات و شواہد: حدیث کے پہلے حصے کے لیے حضرت ابوہریرہ کی حدیث نمبر (106) اور حضرت ابن عباس کی حدیث نمبر (8610) وغیرہ بطورِ شاہد موجود ہیں۔
ويشهد للشطر الثاني منه الأحاديث السابقة.
متابعات و شواہد: اس کے دوسرے حصے کے لیے سابقہ احادیث بطورِ شاہد کافی ہیں۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 449 سے ماخوذ ہے۔