المستدرك على الصحيحين
كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم— صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی معرفت کا بیان
أَوَّلُ مَنْ أَسْلَمَ أَبُو بَكْرٍ وَبِلَالٌ باب: سب سے پہلے اسلام لانے والوں میں حضرت ابو بکرؓ اور حضرت بلالؓ تھے
حدیث نمبر: 4469
فحدَّثَناه أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا محمد بن أيوب، أخبرنا أبو الوليد الطَّيالِسي، حدثنا عِكْرمة بن عمار، حدثنا شَدَّاد بن عبد الله أبو عمّار - وكان قد أدرك نفرًا من أصحاب رسول الله ﷺ قال: قال أبو أُمامة: يا عمرَو بنَ عَبَسَة، بأيِّ شيءٍ تدّعي أنك رُبُع الإسلامِ؟ فذكر الحديثَ بطُوله (3).
حافظ طلحہ بابر
ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے سیدنا عمرو بن عبسہ رضی اللہ عنہ سے پوچھا: آپ کس بنیاد پر یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ آپ اسلام لانے والے چوتھے شخص تھے؟ پھر انہوں نے مکمل حدیث بیان کیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(3) إسناده صحيح. أبو الوليد الطيالسي: هو هشام بن عبد الملك. وأخرجه أحمد 28/ (17019) عن عبد الله بن يزيد المقرئ، ومسلم (832) من طريق النضر بن محمد الجرشي، كلاهما عن عكرمة بن عمار، بهذا الإسناد.
درجۂ حدیث: اس کی سند ’’صحیح‘‘ ہے۔
فنی نکتہ / علّت: ابو الولید الطیالسی: یہ ہشام بن عبدالملک ہیں۔
حوالہ / مصدر: اسے احمد 28/ (17019) نے عبداللہ بن یزید المقری سے، اور مسلم (832) نے نضر بن محمد الجرشی کے طریق سے تخریج کیا۔ یہ دونوں عکرمہ بن عمار سے اسی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں۔
درجۂ حدیث: اس کی سند ’’صحیح‘‘ ہے۔
فنی نکتہ / علّت: ابو الولید الطیالسی: یہ ہشام بن عبدالملک ہیں۔
حوالہ / مصدر: اسے احمد 28/ (17019) نے عبداللہ بن یزید المقری سے، اور مسلم (832) نے نضر بن محمد الجرشی کے طریق سے تخریج کیا۔ یہ دونوں عکرمہ بن عمار سے اسی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 4469 سے ماخوذ ہے۔