حدیث نمبر: 4468
فحدَّثَناه أبو العباس محمد بن يعقوب حدثنا بحر بن نصر بن سابِق الخَوْلاني، حدثنا عبد الله بن وهب قال وأخبرني معاوية بن صالح، حدثنا أبو يحيى وضَمْرة بن حبيب وأبو طلحة، عن أبي أمامة الباهلي، قال: أخبرني عمرو بن عَبَسة قال: أتيتُ رسول الله ﷺ وهو نازِلٌ بعُكاظٍ، قلت: يا رسولَ الله، من اتَّبعك على هذا الأمر؟ قال: "اتَّبعني عليه رجلانِ، حُرٌّ وعبدٌ: أبو بكر وبلال"، قال: فأسلمتُ عند ذلك (2). وأما حديثُ أبي عمّار:
حافظ طلحہ بابر

سیدنا عمرو بن عبسہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں رسول اللہ ﷺ کے پاس حاضر ہوا جبکہ آپ عکاظ کے مقام پر ٹھہرے ہوئے تھے، میں نے عرض کی: یا رسول اللہ! اس معاملے میں کس نے آپ کی اتباع کی ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اس معاملے میں دو آدمیوں نے میری اتباع کی ہے، ایک آزاد اور ایک غلام یعنی ابوبکر اور بلال“، وہ کہتے ہیں: میں اسی وقت اسلام لے آیا۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم / حدیث: 4468
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح،أبو يحيى هو سُليم بن عامر الكَلاعي، وأبو طلحة: هو نُعيم بن زياد.» [ترقيم الرساله 4468] [ترقيم الشركة 4445]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(2) إسناده صحيح. أبو يحيى هو سُليم بن عامر الكَلاعي، وأبو طلحة: هو نُعيم بن زياد.
درجۂ حدیث: اس کی سند ’’صحیح‘‘ ہے۔
فنی نکتہ / علّت: ابو یحییٰ: یہ سلیم بن عامر الکلاعی ہیں۔ ابو طلحہ: یہ نعیم بن زیاد ہیں۔
وأخرجه الطبري في "تاريخه" 2/ 315 عن بحر بن نصر الخَولاني، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے طبری نے ’’تاریخ‘‘ 2/ 315 میں بحر بن نصر الخولانی سے اسی سند کے ساتھ تخریج کیا ہے۔
وأخرجه ابن سعد 4/ 201 و 9/ 406 عن معن بن عيسى، عن معاوية بن صالح، به.
حوالہ / مصدر: اسے ابن سعد 4/ 201 اور 9/ 406 نے معن بن عیسیٰ > معاویہ بن صالح کے طریق سے تخریج کیا ہے۔
وسيأتي برقم (5329) من طريق عبد الله بن صالح، عن معاوية بن صالح، عن أبي يحيى سُليم بن عامر، وحده.
نوٹ / توضیح: یہ عنقریب (نمبر 5329) پر عبداللہ بن صالح > معاویہ بن صالح > تنہا ابو یحییٰ سلیم بن عامر کے طریق سے آئے گی۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 4468 سے ماخوذ ہے۔