حدیث نمبر: 4467
حدثنا عبد الله بن جعفر بن دَرستوَيهِ الفارسي، حدثنا يعقوب بن سفيان، حدثنا أبو تَوْبة الربيع بن نافع الحَلَبي، حدثنا محمد بن مُهاجر، عن العبّاس بن سالم، عن أبي سلّام، عن أبي أُمامة عن عمرو بن عَبَسة قال: أتيتُ رسولَ الله ﷺ في أولِ ما بُعِثَ وهو بمكة، وهو حينئذٍ مُستخْفٍ فقلت: ما أنت؟ قال: "أنا نبيٌّ" قلت: وما النبيُّ؟ قال: "رسولُ الله قلت: آلله أرسلَكَ؟ قال: "نعم" قلت: بما أرسلَكَ؟ قال: "أن تعبدَ الله، وتَكسِرَ الأوثانَ، وتَصِل الأرحامَ" قلت: نِعمَ ما أرسلَكَ به، فمن تَبِعَك على هذا؟ قال: "عبدٌ وحُرٌّ" يعني أبا بكر وبلالًا. وكان عَمرو يقول: لقد رأيتُني وأنا رُبْعُ الإسلام، قال: فأسلمتُ، قلت: أَتْبعُك يا رسول الله، قال: "لا، ولكن الْحَقْ بقومِك، فإذا أُخبِرتَ أني قد خرجتُ فاتْبَعني" (3).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. وقد تابع أبا سلّام على روايته ضَمْرةُ بن حبيب وأبو طلحة الراسِبيّ (1) وشَدّادُ بن عبد الله أبو عمّار. أما حديث ضَمْرة وأبي طلحة:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4418 - صحيح
حافظ طلحہ بابر

سیدنا عمرو بن عبسہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں مکہ میں بعثت کے ابتدائی دور میں رسول اللہ ﷺ کے پاس حاضر ہوا جبکہ آپ اس وقت (مشرکین سے) چھپ کر رہتے تھے، میں نے پوچھا: آپ کیا ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”میں نبی ہوں“، میں نے پوچھا: نبی کیا ہوتا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ کا رسول“، میں نے پوچھا: کیا اللہ نے آپ کو بھیجا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہاں“، میں نے پوچھا: کس پیغام کے ساتھ بھیجا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اس لیے کہ تم صرف اللہ کی عبادت کرو، بتوں کو توڑ دو اور صلہ رحمی کرو“، میں نے کہا: آپ جس پیغام کے ساتھ آئے ہیں وہ کتنا عمدہ ہے، اس معاملے میں آپ کی پیروی کس نے کی ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ایک غلام اور ایک آزاد نے“، یعنی ابوبکر اور بلال رضی اللہ عنہما نے، عمرو کہا کرتے تھے: میں نے خود کو اس وقت دیکھا جب میں اسلام لانے والا چوتھا شخص تھا، وہ کہتے ہیں: پس میں اسلام لے آیا اور عرض کی: یا رسول اللہ! کیا میں آپ کے ساتھ رہوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”نہیں، بلکہ تم اپنی قوم میں واپس چلے جاؤ، جب تمہیں خبر ملے کہ میں (مدینہ) ہجرت کر گیا ہوں تب میرے پاس آ جانا“۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم / حدیث: 4467
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح، وهو قطعة من الحديث المتقدم برقم (593) بالإسناد نفسه. وانظر تالييه.» [ترقيم الرساله 4467] [ترقيم الشركة 4444] [ترقيم العلميه 4418]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(3) إسناده صحيح، وهو قطعة من الحديث المتقدم برقم (593) بالإسناد نفسه. وانظر تالييه.
درجۂ حدیث: اس کی سند ’’صحیح‘‘ ہے۔
نوٹ / توضیح: یہ اس حدیث کا ایک ٹکڑا ہے جو پہلے (نمبر 593) پر اسی سند کے ساتھ گزر چکی ہے۔ اور اس کے بعد والی دو احادیث دیکھیں۔
(1) كذا جاء في بعض النسخ، وفي بعضها الرسبي، مع أنَّ أبا طلحة المذكور - وهو نُعيم بن زياد الشامي - يُنسب أنماريًا لا راسِبيًا، وفي الرواة رجل اسمه شداد بن سعيد أبو طلحة الراسبي، وهو بصري مشهور، فالظاهر أن ما وقع هنا سبق قلم بسبب اشتراكهما في الكنية، ولعله لأجل ذلك ضبَّب فوقها في (ز).
فنی نکتہ / علّت: بعض نسخوں میں یوں ہی (الراسبی) آیا ہے، اور بعض میں ’’الرسبی‘‘۔ حالانکہ مذکورہ ابو طلحہ (نعیم بن زیاد الشامی) کی نسبت ’’انماری‘‘ ہے نہ کہ ’’راسبی‘‘۔ راویوں میں ایک شخص شداد بن سعید ابو طلحہ الراسبی ہے جو مشہور بصری راوی ہے۔ پس ظاہر ہے کہ یہاں جو کچھ لکھا گیا وہ کنیت میں اشتراک کی وجہ سے قلم کی سبقت (غلطی) ہے، شاید اسی لیے نسخہ (ز) میں اس پر ’’ضبّہ‘‘ (نشان) لگایا گیا ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 4467 سے ماخوذ ہے۔