المستدرك على الصحيحين
كتاب الهجرة— ہجرت کا بیان
مُؤَاخَاةُ رَسُولِ اللَّهِ بَيْنَ أَصْحَابِهِ باب: رسول اللہ ﷺ کا اپنے صحابہؓ کے درمیان مؤاخات قائم کرنا
حدَّثَناهُ أبو سهل أحمد بن محمد بن زياد النحوي ببغداد، حدثنا أحمد بن محمد بن عيسى القاضي، حدثنا إسحاق بن بشر الكاهلي، حدثنا محمد بن فُضيل، عن سالم بن أبي حفصة، عن جُميع بن عُمير التّيمي، عن ابن عمر، قال: إنَّ رسول الله ﷺ آخى بين أصحابه، فآخى بين أبي بكر وعمر، وبين طلحة والزبير، وبين عثمان بن عفان وعبد الرحمن بن عوف، فقال عليّ: يا رسول الله، إنك قد آخيت بين أصحابك، فمن أخي؟ قال رسول الله ﷺ: "أما ترضى يا عليُّ، أن أكون أخاك؟ "، قال ابن عمر: وكان عليّ جَلْدًا شُجاعًا، فقال عليّ: بلى يا رسول الله، فقال رسول الله ﷺ: "أنتَ أخي في الدُّنيا والآخرة" (1).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4289 - جميع بن عمير أتهم وإسحاق بن بشر الكاهلي هالكسیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنے اصحاب کے درمیان بھائی چارہ قائم کیا، پس آپ ﷺ نے سیدنا ابوبکر اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہما کے درمیان، سیدنا طلحہ اور سیدنا زبیر رضی اللہ عنہما کے درمیان، اور سیدنا عثمان بن عفان اور سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہما کے درمیان بھائی چارہ کروا دیا، تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! آپ نے تو اپنے صحابہ کے درمیان بھائی چارہ قائم کر دیا، تو میرا بھائی کون ہے؟ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”اے علی! کیا تم اس بات پر راضی نہیں ہو کہ میں تمہارا بھائی بنوں؟“ ابن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نہایت قوی اور بہادر تھے، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: کیوں نہیں یا رسول اللہ! تو رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”تم دنیا اور آخرت میں میرے بھائی ہو۔“
تشریح، فوائد و مسائل
درجۂ حدیث: (1) یہ سند اسحاق بن بشر الجاہلی (ابن مقاتل) کی وجہ سے تالف (تباہ شدہ) ہے۔
فنی نکتہ / علّت: وہ "ہالک" (انتہائی جھوٹا/متروک) ہے جیسا کہ ذہبی نے "التلخیص" میں کہا ہے۔ اہلِ معرفت (محدثین) کی ایک جماعت نے اس کی تکذیب کی ہے جیسا کہ ذہبی کی "المیزان" میں ہے۔ ذہبی نے "التلخیص" میں جمیع بن عمیر کو بھی علت قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ وہ "متہم" ہے، لیکن اہلِ علم کے اقوال کی روشنی میں تحقیق یہ ہے کہ وہ "ضعیف" اور "فیہ نظر" ہے لیکن "متہم" کے درجے تک نہیں گرتا، واللہ اعلم۔ یہاں اصل مسئلہ اسحاق بن بشر الکاہلی کا ہے۔ یہ حدیث مذکورہ الفاظ کے ساتھ جمیع بن عمیر سے کئی اور طرق سے بھی مروی ہے لیکن وہ سب کے سب ضعیف ہیں۔