المستدرك على الصحيحين
كتاب : تواريخ المتقدمين من الأنبياء والمرسلين— سابقہ انبیاء و مرسلین کے واقعات
لَمْ يُبْعَثْ نَبِيٌّ قَطُّ بَعْدَ لُوطٍ إِلَّا فِي ثَرْوَةٍ مِنْ قَوْمِهِ باب: سیدنا لوط علیہ السلام کے بعد کوئی نبی ایسی قوم میں نہیں بھیجا گیا جو مال و دولت میں کمزور ہو
حدیث نمبر: 4100
أخبرنا محمد بن إسحاق الصَّفّار، حدثنا أحمد بن نصر، حدثنا عمرو بن طلحة القنَّاد، حدثنا أسباطٌ، عن السُّدِّي، قال: انطلق لوطٌ ونَزَل على أهل سَدُوم، فوجدَهم يَنكِحُون الرجال، فنزل فيهم فبعثه الله إليهم، فدعاهم ووَعَظَهم، وكان من خبرهم ما قَصَّ الله في كتابه (3).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4056 - سكت عنه الذهبي في التلخيصحافظ طلحہ بابر
سدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”لوط علیہ السلام روانہ ہوئے اور سدوم والوں کے پاس جا کر ٹھہرے۔ انہوں نے ان لوگوں کو اس حال میں پایا کہ وہ مردوں کے ساتھ بدفعلی کرتے تھے۔ پس آپ وہیں ان کے درمیان قیام پذیر ہو گئے، اور اللہ تعالیٰ نے آپ کو ان کی طرف مبعوث فرما دیا۔ چنانچہ آپ نے انہیں دعوت دی اور وعظ و نصیحت کی۔ پھر ان کے واقعے کا انجام وہی ہوا جو اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں بیان فرمایا ہے۔“
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(3) رجاله لا بأس بهم. أسباط: هو ابن نصر، والسُّدِّي: هو إسماعيل بن عبد الرحمن.
درجۂ راوی: اس کے رجال میں کوئی حرج نہیں ہے۔ اسباط سے مراد "ابن نصر"، اور سدی سے مراد "اسماعیل بن عبدالرحمن" ہیں۔
وانظر ما سيأتي برقم (4103).
نوٹ / توضیح: آگے نمبر (4103) پر آنے والا حصہ دیکھیں۔
درجۂ راوی: اس کے رجال میں کوئی حرج نہیں ہے۔ اسباط سے مراد "ابن نصر"، اور سدی سے مراد "اسماعیل بن عبدالرحمن" ہیں۔
وانظر ما سيأتي برقم (4103).
نوٹ / توضیح: آگے نمبر (4103) پر آنے والا حصہ دیکھیں۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 4100 سے ماخوذ ہے۔