حدیث نمبر: 410
فحدَّثَناه علي بن حَمْشاذَ، أخبرنا محمد بن غالب، أنَّ حفص بن عمر العُمَري حدثهم، قال: حدثنا معاوية بن سلَّام، عن يحيى بن أبي كثير، حدثني زيد بن سلَّام، أنه سمع أبا سلَّام يقول: حدثني الحارث الأشعَري، أنَّ رسول الله ﷺ قال: "إِنَّ الله أمَرني بخمسٍ أعملُ بهنَّ … " فذكر الحديث بطوله (2). وأما حديث أبانَ بن يزيد عن يحيى:
حافظ طلحہ بابر

حارث اشعری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”بے شک اللہ نے مجھے پانچ باتوں کا حکم دیا ہے جن پر میں عمل کرتا ہوں...“ (پھر پوری طویل حدیث ذکر کی)۔
اسے معاویہ بن سلام اور ابان بن یزید عطار نے بھی یحییٰ بن ابی کثیر سے اسی طرح روایت کیا ہے۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب العلم / حدیث: 410
درجۂ حدیث محدثین: حديث صحيح
تخریج حدیث «حديث صحيح، حفص بن عمر العُمري هذا لعله هو حفص بن عمر بن سويد أبو عمر الخطّابي العدوي البغدادي، ترجمه ابن عساكر في "تاريخ دمشق" 14/ 423 - 425، والخطيب في "تاريخ بغداد" 9/ 89، وذكرا أنه روى عن معاوية بن سلام، إلّا أنهما لم يأثُرا فيه جرحًا أو تعديلًا، وباقي رجاله ثقات- وانظر ما بعده-» [ترقيم الرساله 410] [ترقيم الشركة 404]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(2) حديث صحيح، حفص بن عمر العُمري هذا لعله هو حفص بن عمر بن سويد أبو عمر الخطّابي العدوي البغدادي، ترجمه ابن عساكر في "تاريخ دمشق" 14/ 423 - 425، والخطيب في "تاريخ بغداد" 9/ 89، وذكرا أنه روى عن معاوية بن سلام، إلّا أنهما لم يأثُرا فيه جرحًا أو تعديلًا، وباقي رجاله ثقات. وانظر ما بعده.
درجۂ حدیث: یہ حدیث صحیح ہے۔
فنی نکتہ / علّت: سند میں موجود راوی "حفص بن عمر العمری" کے بارے میں غالب گمان یہ ہے کہ یہ حفص بن عمر بن سوید ابو عمر الخطابی العدوی البغدادی ہیں۔
حوالہ / مصدر: ان کا تذکرہ ابن عساکر نے "تاریخِ دمشق" 14/ 423 - 425 میں اور خطیب بغدادی نے "تاریخِ بغداد" 9/ 89 میں کیا ہے۔ انہوں نے یہ تو ذکر کیا ہے کہ حفص نے معاویہ بن سلام سے روایت کی ہے، مگر ان کے بارے میں کوئی جرح یا تعدیل نقل نہیں کی، البتہ سند کے باقی تمام راوی "ثقہ" (قابلِ اعتماد) ہیں۔
اہم نکتہ: مابعد کی روایت بھی دیکھیں۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 410 سے ماخوذ ہے۔