حدیث نمبر: 39
أخبرنا أبو محمد عبد الرحمن بن حمدان الجلَّاب بهَمَذان، حدثنا أبو حاتم الرازي، حدثنا سعيد بن أبي مريم، حدثنا ابن أبي الزِّناد، أخبرني أَبي، حدثني ربيعة بن عِبَاد الدُّؤَلي، قال: رأيت رسولَ الله ﷺ في الجاهلية بسوق ذي المَجَاز وهو يقول: "يا أيها الناس، قولوا: لا إلهَ إلّا الله، تُفلِحوا"، قال: يردِّدها مرارًا والناسُ مجتمعون عليه يتبعونه، وإذا وراءَه رجلٌ أحولُ ذو غَدِيرتَينِ، وَضِيءُ الوجه، يقول: إنه صابئٌ كاذب، فسألتُ: من هذا؟ فقالوا: عمُّه أبو لهب (3). قال: وإنما استشهدتُ بعبد الرحمن بن أبي الزِّناد اقتداءً بهما، فقد استَشهَدا جميعًا به.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 39 - وإنما استشهدت بابن أبي الزناد فقد استشهدا به
حافظ طلحہ بابر

سیدنا ربیعہ بن عباد دؤلی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے دورِ جاہلیت میں رسول اللہ ﷺ کو ذوالمجاز کے بازار میں دیکھا، آپ ﷺ فرما رہے تھے: ”اے لوگو! «لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ» کہہ دو، تم کامیاب ہو جاؤ گے“، وہ کہتے ہیں کہ آپ ﷺ اسے بار بار دہرا رہے تھے اور لوگ آپ ﷺ کے گرد جمع تھے اور آپ ﷺ کے پیچھے پیچھے چل رہے تھے، جبکہ آپ ﷺ کے پیچھے ایک بھینگا شخص تھا جس کے سر کے بالوں کی دو لٹیں تھیں اور چہرہ چمکدار تھا، وہ کہہ رہا تھا: یہ اپنے دین سے پھر جانے والا اور جھوٹا ہے۔ میں نے پوچھا: یہ کون ہے؟ تو لوگوں نے کہا: یہ ان کا چچا ابولہب ہے۔
میں نے عبدالرحمن بن ابی الزناد سے ان دونوں (امام بخاری و مسلم) کی پیروی میں استشہاد کیا ہے، کیونکہ ان دونوں نے بھی ان سے استشہاد کیا ہے۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الإيمان / حدیث: 39
درجۂ حدیث محدثین: حديث صحيح
تخریج حدیث «حديث صحيح، وهذا إسناد حسن من أجل ابن أبي الزناد: وهو عبد الرحمن» [ترقيم الرساله 39] [ترقيم الشركة 39] [ترقيم العلميه 39]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(3) حديث صحيح، وهذا إسناد حسن من أجل ابن أبي الزناد: وهو عبد الرحمن.
درجۂ حدیث: (3) حدیث "صحیح" ہے، اور یہ سند ابن ابی الزناد (عبد الرحمٰن) کی وجہ سے "حسن" ہے۔
وأخرجه عبد الله بن أحمد 25/ (16023) عن داود بن عمرو الضَّبّي، عن ابن أبي الزناد، بهذا الإسناد. وانظر ما قبله.
حوالہ / مصدر: اسے عبد اللہ بن احمد (25/ 16023) نے داود بن عمرو الضبی عن ابن ابی الزناد سے روایت کیا ہے۔
وله طرق أخرى انظرها في "المسند" (16020 - 16027).
متابعات و شواہد: اس کے دیگر طرق "مسند" (16020-16027) میں دیکھیں۔
وسوق ذي المجاز: أحد أسواق العرب المشهورة في الجاهلية، وكانت قريبًا من عرفة.
نوٹ / توضیح: "ذو المجاز": جاہلیت میں عربوں کا مشہور بازار، جو عرفہ کے قریب تھا۔
والغَديرة: الجديلة من الشَّعر.

والصابئ: الذي خرج من دينٍ إلى دينٍ غيره.

نوٹ / توضیح: "الغدیرہ": بالوں کی چوٹی (مینڈھی)۔ "الصابئ": جو ایک دین سے نکل کر دوسرے میں چلا جائے (بے دین)۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 39 سے ماخوذ ہے۔