المستدرك على الصحيحين
كتاب العلم— علم کا بیان
كَفَى بِالْمَرْءِ إِثْمًا أَنْ يُحَدِّثَ بِكُلِّ مَا سَمِعَ باب: آدمی کے لیے یہی گناہ کافی ہے کہ وہ ہر سنی بات آگے بیان کرے۔
حدیث نمبر: 389
حدَّثَناه أبو علي الحسين بن علي الحافظ، أخبرنا أحمد بن علي بن المثنَّى، حدثنا هارون بن معروف، حدثنا سفيان بن عُيَينة، عن هشام بن حُجَير، عن طاووس، عن ابن عباس قال: كنَّا نُحدِّث عن رسول الله ﷺ إذ لم يُكذَبُ عليه، فلما رَكِبَ الناسُ الصعبَ والذُّلُولَ، تركْنا الحديثَ عنه (3). وصلَّى الله على محمد وآله.
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ہم رسول اللہ ﷺ سے اس وقت احادیث بیان کرتے تھے جب آپ ﷺ پر جھوٹ نہیں باندھا جاتا تھا، لیکن جب لوگوں نے ہر طرح کی باتیں شروع کر دیں تو ہم نے آپ ﷺ سے حدیث بیان کرنا (احتیاطاً) چھوڑ دیا۔
اسی طرح اس کا ایک اور شاہد موجود ہے۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(3) خبر صحيح، وهذا إسناد حسن إن شاء الله من أجل هشام بن حجير.
وأخرجه مسلم في مقدمة "صحيحه" باب رقم (4) من طريقين عن سفيان بن عيينة، بهذا الإسناد. وانظر ما قبله.
درجۂ حدیث: یہ خبر "صحیح" ہے، اور ان شاء اللہ اس کی سند "حسن" ہے، جس کی وجہ اس کے راوی ہشام بن حجیر ہیں۔
حوالہ / مصدر: اسے امام مسلم نے اپنی "صحیح مسلم" کے مقدمہ، باب نمبر (4) میں سفیان بن عیینہ کے دو طریقوں سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
اہم نکتہ: اس حوالے سے ماقبل کی روایت بھی ملاحظہ فرمائیں۔
وأخرجه مسلم في مقدمة "صحيحه" باب رقم (4) من طريقين عن سفيان بن عيينة، بهذا الإسناد. وانظر ما قبله.
درجۂ حدیث: یہ خبر "صحیح" ہے، اور ان شاء اللہ اس کی سند "حسن" ہے، جس کی وجہ اس کے راوی ہشام بن حجیر ہیں۔
حوالہ / مصدر: اسے امام مسلم نے اپنی "صحیح مسلم" کے مقدمہ، باب نمبر (4) میں سفیان بن عیینہ کے دو طریقوں سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
اہم نکتہ: اس حوالے سے ماقبل کی روایت بھی ملاحظہ فرمائیں۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 389 سے ماخوذ ہے۔