حدیث نمبر: 390
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، أخبرنا محمد بن عبد الله بن عبد الحَكَم، أخبرنا ابن وَهْب، أخبرني عمرو بن الحارث، أن يحيى بن ميمون الحَضْرمي أخبره عن أبي موسى الغافِقِي قال: آخرُ ما عَهِدَ إلينا رسولُ الله ﷺ أنه قال: "عليكم بكتابِ الله، وستَرجِعُون إلى قومٍ يحبُّون الحديثَ عني - أو كلمةً تشبهها - فمَن حَفِظَ شيئًا فليحدِّثْ به، ومن قال عليَّ ما لم أقُلْ فليَتبوَّأْ مَقعَدَه من النار" (1). رواة هذا الحديث عن آخرهم يُحتَجُّ بهم، فأما أبو موسى مالك بن عُبادة الغافقي فإنه صحابي سكن مصر، وهذا الحديث من جُمْلة ما خرَّجناه عن الصحابي إذا صحَّ إليه الطريق، على أنَّ وَدَاعَةَ الجَنْبي قد روى أيضًا عن مالك بن عُبادة الغافقي، وهذا الحديث قد جمع لفظتين غريبتين: إحداهما قوله: "سترجعون إلى قوم يحبُّون الحديث عني"، والأخرى: "فمن حَفِظَ شيئًا فليحدِّثْ به"، وقد ذهب جماعة من أئمة الإسلام إلى أنَّ ليس للمحدِّث أن يحدِّثَ بما لا يحفظُه، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 385 - رواته محتج بهم وأبو موسى مالك بن عبادة صحابي
حافظ طلحہ بابر

ابو موسیٰ غافقی سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے آخری وصیت ہمیں یہ فرمائی: ”تم پر اللہ کی کتاب لازم ہے، اور عنقریب تم ایسے لوگوں کے پاس جاؤ گے جو مجھ سے حدیث سننا پسند کریں گے، پس جس نے (میری کوئی بات) یاد کی ہو وہ اسے بیان کر دے، اور جس نے مجھ پر وہ بات کہی جو میں نے نہیں کہی تو وہ اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنا لے۔“
اس حدیث کے تمام راوی قابلِ احتجاج ہیں، ابو موسیٰ مالک بن عبادہ غافقی صحابی ہیں جو مصر میں مقیم ہوئے، یہ حدیث ان روایات میں سے ہے جو ہم نے صحابہ سے صحیح سند کے ساتھ نقل کی ہیں، اس میں دو نادر الفاظ جمع ہیں: ایک یہ کہ ”تم ایسے لوگوں کے پاس جاؤ گے جو مجھ سے حدیث سننا پسند کریں گے“ اور دوسرا ”جسے یاد ہو وہ بیان کرے“؛ ائمہ کی ایک جماعت کا موقف ہے کہ محدث کو صرف وہی بیان کرنا چاہیے جو اسے حفظ ہو، اور شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب العلم / حدیث: 390
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «إسناده ضعيف، يحيى بن ميمون الحضرمي لم يسمعه من أبي موسى الغافقي، بينهما فيه وداعة الحمدي أو الجمدي على خلاف في نسبته، وهو مجهول، وانظر تتمة بيان ذلك في التعليق على الحديث في "مسند أحمد" 36/ (18946)، فقد أخرجه من طريق الليث بن سعد عن عمرو بن الحارث بأطول مما هنا-» [ترقيم الرساله 390] [ترقيم الشركة 384] [ترقيم العلميه 385]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) إسناده ضعيف، يحيى بن ميمون الحضرمي لم يسمعه من أبي موسى الغافقي، بينهما فيه وداعة الحمدي أو الجمدي على خلاف في نسبته، وهو مجهول، وانظر تتمة بيان ذلك في التعليق على الحديث في "مسند أحمد" 36/ (18946)، فقد أخرجه من طريق الليث بن سعد عن عمرو بن الحارث بأطول مما هنا.
درجۂ حدیث: اس کی سند ضعیف ہے۔
فنی نکتہ / علّت: یحییٰ بن میمون حضرمی نے اسے ابو موسیٰ غافقی سے براہِ راست نہیں سنا، بلکہ ان کے درمیان وداعہ حَمْدی (یا جَمْدی، ان کی نسبت میں اختلاف ہے) واسطہ ہیں اور وہ "مجہول" (نامعلوم) راوی ہیں۔
نوٹ / توضیح: اس بحث کی مکمل تفصیل "مسند احمد" 36/ (18946) کی تعلیق میں دیکھی جا سکتی ہے، جہاں امام احمد نے اسے لیث بن سعد کے طریق سے، انہوں نے عمرو بن حارث سے، یہاں موجود متن کے مقابلے میں زیادہ تفصیل کے ساتھ روایت کیا ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 390 سے ماخوذ ہے۔