حدیث نمبر: 388
أخبرني أبو عمرو إسماعيل بن نُجَيد بن أحمد بن يوسف السُّلَمي ﵀، حدثنا محمد بن أيوب، أخبرنا محمد بن سِنَان العوقي، أخبرنا ابن المبارَك، عن مَعمَر، عن ابن طاووس، عن أبيه قال: قرأ ابن عباس ﴿وَمَا يَعْلَمُ تَأْوِيلَهُ إِلَّا اللَّهُ وَالرَّاسِخُونَ فِي الْعِلْمِ﴾ [آل عمران: 7] فقال: كنا نَحفَظُ الحديثَ، والحديثُ يُحفَظُ عن رسول الله ﷺ، حتى رَكِبتُم الصَّعْبَ والذُّلُول (2). هذا إسناد صحيح على شرط الشيخين. وله شاهدٌ آخرُ مثله:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 383 - على شرطهما
حافظ طلحہ بابر

طاؤس کے والد سے روایت ہے کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے یہ آیت پڑھی: ﴿وَمَا يَعْلَمُ تَأْوِيلَهُ إِلَّا اللَّهُ وَالرَّاسِخُونَ فِي الْعِلْمِ﴾ [سورة آل عمران: 7]، پھر فرمایا: ہم (پہلے) حدیث کو یاد کرتے تھے اور رسول اللہ ﷺ کی حدیث (بڑی احتیاط سے) یاد کی جاتی تھی، یہاں تک کہ تم ہر قسم کی (صحیح اور ضعیف) روایات بیان کرنے لگے۔
یہ اسناد شیخین کی شرط پر صحیح ہے۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب العلم / حدیث: 388
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح، محمد بن أيوب: هو ابن الضُّريس صاحب كتاب "فضائل القرآن"، وابن طاووس: هو عبد الله» [ترقيم الرساله 388] [ترقيم الشركة 382] [ترقيم العلميه 383]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(2) إسناده صحيح محمد بن أيوب: هو ابن الضُّريس صاحب كتاب "فضائل القرآن"، وابن طاووس: هو عبد الله.
درجۂ حدیث: اس کی سند "صحیح" ہے۔
فنی نکتہ / علّت: محمد بن ایوب سے مراد ابن الضریس ہیں جو کتاب "فضائل القرآن" کے مصنف ہیں، اور ابن طاؤوس سے مراد عبد اللہ (بن طاؤوس) ہیں۔
وأخرجه مسلم في مقدمة "صحيحه" باب رقم (4)، وابن ماجه (27)، والنسائي (5838) من طريق عبد الرزاق عن معمر، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے امام مسلم نے اپنی "صحیح مسلم" کے مقدمہ، باب نمبر (4) میں تخریج کیا ہے، نیز امام ابن ماجہ (27) اور امام نسائی (5838) نے اسے عبد الرزاق بن ہمام کے طریق سے، انہوں نے معمر بن راشد سے، اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وأخرجه بمعناه مسلم أيضًا من طريق مجاهد، عن ابن عباس.
تفصیلِ روایت: اسی مفہوم کی ایک روایت امام مسلم نے مجاہد بن جبر کے طریق سے، انہوں نے حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے بھی روایت کی ہے۔
قوله: "الصعب والذَّلول" قال النووي في "شرح مسلم": أصل الصعب والذلول في الإبل، فالصعب: العَسِرُ المرغوب عنه، والذَّلول" السهل الطيب المحبوب المرغوب فيه، فالمعنى: سلك الناسُ كلَّ مسلك ممّا يُحمَد ويُذَم.
نوٹ / توضیح: متن کے الفاظ "الصعب والذَّلول" کے بارے میں علامہ نووی "شرح مسلم" میں فرماتے ہیں کہ: اصل میں "صعب" اور "ذلول" کی اصطلاحات اونٹوں کے لیے استعمال ہوتی ہیں۔ "صعب" وہ دشوار گزار سواری ہے جس سے بچا جائے، اور "ذلول" وہ سہل اور اچھی سواری ہے جو محبوب اور پسندیدہ ہو۔ پس حدیث کا معنی یہ ہے کہ: لوگ ہر طرح کے راستے پر چل پڑے، خواہ وہ قابلِ تعریف ہو یا قابلِ مذمت۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 388 سے ماخوذ ہے۔