حدَّثَناه علي بن حَمْشاذ العَدْل، حَدَّثَنَا محمد بن غالب وعلي بن عبد العزيز قالا: حَدَّثَنَا الحسن بن بِشْر بن سَلْم، حَدَّثَنَا الحكم بن عبد الملك، عن قَتَادة، عن أنس بن مالك قال: لما رَجَعْنا من الحُديبيَة وأصحابُ محمد ﷺ قد خالَطُوا الحزنَ والكآبةَ حيث ذَبَحُوا هَدْيَهم في أمكنتهم، فقال رسول الله ﷺ: "أُنزِلَت عليَّ آيةٌ هي أحبُّ إليَّ من الدنيا جميعًا ثلاثًا، قلنا: ما هي يا رسول الله؟ فقرأ: ﴿إِنَّا فَتَحْنَا لَكَ فَتْحًا مُبِينًا (1) لِيَغْفِرَ لَكَ اللَّهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِكَ وَمَا تَأَخَّرَ وَيُتِمَّ نِعْمَتَهُ عَلَيْكَ وَيَهْدِيَكَ صِرَاطًا مُسْتَقِيمًا﴾ إلى آخر الآيتين، قلنا: هنيئًا لك يا رسول الله، فما لنا؟ فقرأ ﴿لِيُدْخِلَ الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَاتِ جَنَّاتٍ تَجْرِي مِنْ تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ خَالِدِينَ فِيهَا وَيُكَفِّرَ عَنْهُمْ سَيِّئَاتِهِمْ وَكَانَ ذَلِكَ عِنْدَ اللَّهِ فَوْزًا عَظِيمًا﴾ [الفتح: 5]. فلما أتينا خيبرَ فأَبصروا خَمِيسَ رسولِ الله ﷺ يعني: جيشَه - أَدبَروا هاربين إلى الحِصْن، فقال رسول الله ﷺ: "خَرِبَت خيبرُ، إنَّا إذا نزلنا بساحة قومٍ فساءَ صباحُ المنذَرِين" (1).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3713 - الحكم بن مالك ضعيف أخرجه استشهاداسیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: جب ہم حدیبیہ سے واپس لوٹے تو رسول اللہ ﷺ کے اصحاب غم اور اداسی کی کیفیت میں مبتلا تھے کیونکہ (بظاہر صلح کی شرائط دب کر طے ہوئی تھیں اور) انہوں نے اپنے جانور اسی جگہ ذبح کر دیے تھے، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”مجھ پر ایک ایسی آیت نازل ہوئی ہے جو مجھے پوری دنیا سے زیادہ محبوب ہے“ آپ ﷺ نے یہ بات تین مرتبہ دہرائی۔ ہم نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! وہ کیا ہے؟ تو آپ ﷺ نے تلاوت فرمائی: ﴿إِنَّا فَتَحْنَا لَكَ فَتْحًا مُبِينًا (1) لِيَغْفِرَ لَكَ اللَّهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِكَ وَمَا تَأَخَّرَ وَيُتِمَّ نِعْمَتَهُ عَلَيْكَ وَيَهْدِيَكَ صِرَاطًا مُسْتَقِيمًا﴾ ”بے شک ہم نے آپ کو کھلی فتح عطا کر دی ہے تاکہ اللہ آپ کی اگلی اور پچھلی لغزشیں معاف فرما دے اور آپ پر اپنی نعمت تمام کر دے اور آپ کو سیدھی راہ پر چلائے“ [سورة الفتح: 1-2] آخری دو آیات تک۔ ہم نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! آپ کو مبارک ہو، لیکن ہمارے لیے کیا ہے؟ تو آپ ﷺ نے یہ آیت تلاوت فرمائی: ﴿لِيُدْخِلَ الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَاتِ جَنَّاتٍ تَجْرِي مِنْ تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ خَالِدِينَ فِيهَا وَيُكَفِّرَ عَنْهُمْ سَيِّئَاتِهِمْ وَكَانَ ذَلِكَ عِنْدَ اللَّهِ فَوْزًا عَظِيمًا﴾ ”تاکہ وہ مومن مردوں اور مومن عورتوں کو ایسی جنتوں میں داخل کرے جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں، وہ ان میں ہمیشہ رہیں گے اور وہ ان سے ان کی برائیاں دور کر دے اور یہ اللہ کے نزدیک بہت بڑی کامیابی ہے“ [سورة الفتح: 5] پھر جب ہم خیبر پہنچے اور وہاں کے لوگوں نے رسول اللہ ﷺ کے «خَمِيسَ» یعنی لشکر کو دیکھا تو وہ پیٹھ پھیر کر اپنے قلعوں کی طرف بھاگنے لگے، اس پر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «خَرِبَت خيبرُ، إنَّا إذا نزلنا بساحة قومٍ فساءَ صباحُ المنذَرِين» ”خیبر برباد ہو گیا، یقیناً جب ہم کسی قوم کے صحن میں اترتے ہیں تو ڈرائے گئے لوگوں کی صبح بہت بری ہوتی ہے“۔
تشریح، فوائد و مسائل
درجۂ حدیث: یہ حدیث "صحیح" ہے، لیکن یہ سند حکم بن عبد الملک کی وجہ سے "ضعیف" ہے (ذہبی نے اسے معلول کہا)۔
فنی نکتہ / علّت: حکم نے منفرد ہو کر حدیبیہ اور خیبر کے قصوں کو ایک خبر میں جمع کر دیا، حالانکہ الگ الگ ان کی متابعت موجود ہے۔
أما قصة الحديبية في الشطر الأول، فقد تابعه عليها همّام العوذي وغيره عن قتادة. وانظر تخريجها في الحديث السابق.
تفصیلِ روایت: پہلے حصے میں حدیبیہ کے قصے پر ہمام عوذی وغیرہ نے قتادہ سے ان کی متابعت کی ہے۔ تخریج پچھلی حدیث میں دیکھیں۔
وأما قصة خيبر في الشطر الثاني، فقد تابعه فيها معمر عن قتادة عند أحمد 20/ (12671)، وشعبة عن قتادة عند مسلم (1801) (122).
تفصیلِ روایت: دوسرے حصے میں خیبر کے قصے پر معمر عن قتادہ (احمد: 20/ 12671) اور شعبہ عن قتادہ (مسلم: 1801) نے متابعت کی ہے۔
وروى قصة خيبر مطوّلةً عبد العزيز بن صهيب عن أنس عند أحمد 19/ (11992)، والبخاري (371)، ومسلم (1427) (84)، وغيرهم. وانظر تمام تخريجه في "مسند أحمد".
حوالہ / مصدر: خیبر کا قصہ طوالت کے ساتھ عبد العزیز بن صہیب عن انس نے احمد (19/ 11992)، بخاری (371) اور مسلم (1427) وغیرہ کے ہاں روایت کیا ہے۔