حدیث نمبر: 362
حدثنا أبو بكر إسماعيل بن محمد بن إسماعيل الضَّرير بالرَّيّ، حدثنا أبو حاتم محمد بن إدريس، حدثنا عبد الله بن صالح، حدثني الليث بن سعد. وأخبرنا أبو قُتيبة سَلْم بن فضل الأَدَمي بمكة، حدثنا عبد الله بن محمد بن ناجِيَة، حدثنا عَبْدة بن عبد الله الخُزَاعي، حدثنا زيد بن حُبَاب، حدثنا ليث بن سعد المِصري، حدثني خالد بن يزيد، عن عبد الواحد بن قيس، عن عبد الله بن عمرو قال: قالت لي قريش: تكتبُ عن رسول الله ﷺ، وإنما هو بشرٌ يَعْضَبُ كما يَعْضَب البشرُ؟ فأتيتُ رسولَ الله ﷺ فقلت: يا رسول الله، إنَّ قريشًا تقول: تكتبُ عن رسول الله ﷺ، وإنما هو بشرٌ يَعْضَبُ كما يَعْضَب البشر؟ قال: فأَوْمأَ إِلى شَفَتَيهِ فقال: "والذي نفسي بيده، ما يَخرُجُ مما بينهما إلّا حقٌّ، فاكتُبْ" (1).
هذا حديث صحيح الأسانيد أصلٌ في نَسْخ الحديث عن رسول الله ﷺ، ولم يُخرجاه، وقد احتجَّا بجميع رُواته إلّا عبد الواحد بن قيس، وهو شيخ من أهل الشام، وابنُه عمر بن عبد الواحد الدمشقي أحد أئمة الحديث. وقد روى عبد الواحد بن قيس عن جماعة من الصحابة منهم أبو هريرة وأبو أُمامة الباهلي ووائلة بن الأسقَع، وروى عنه الأوزاعيُّ أحاديث. ولهذا الحديث شاهدٌ قد اتَّفقا على إخراجه على سبيل الاختصار عن همَّام بن مُنبِّه عن أبي هريرة أنه قال: ليس أحدٌ من أصحاب النبي ﷺ أكثر حديثًا مني إلّا عبد الله بن عمرو، فإنه كان يَكتُب وكنت لا أكتُب. وعن عمرو بن دينار عن وَهْب بن مُنبِّه عن أخيه همَّام عن أبي هريرة نحوه (2). فأما عبد الواحد بن قيس وحديثُه عن عبد الله بن عمرو، فقد وجدتُ له فيه شاهدًا من حديث عَمرو بن شعيب.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 357 - صحيح
حافظ طلحہ بابر

سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ مجھ سے قریش نے کہا: تم رسول اللہ ﷺ سے جو کچھ سنتے ہو وہ سب لکھ لیتے ہو، حالانکہ آپ ﷺ ایک انسان ہیں اور اسی طرح غصے میں بھی آتے ہیں جیسے دیگر انسان غصے میں آتے ہیں؟ تو میں رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا: یا رسول اللہ! قریش کہتے ہیں کہ آپ رسول اللہ ﷺ سے (ہر بات) لکھ لیتے ہیں جبکہ آپ ایک انسان ہیں اور ویسے ہی غصے میں بھی آتے ہیں جیسے دیگر انسان؟ راوی کہتے ہیں کہ آپ ﷺ نے اپنے مبارک ہونٹوں کی طرف اشارہ فرمایا اور ارشاد فرمایا: ”اس ذات کی قسم جس کے قبضۂ قدرت میں میری جان ہے! ان دونوں کے درمیان سے حق کے علاوہ کچھ نہیں نکلتا، لہٰذا تم لکھا کرو۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے اور رسول اللہ ﷺ کی احادیث کو تحریر میں لانے کے معاملے میں ایک اصل (دلیل) ہے، شیخین نے عبدالواحد بن قیس کے علاوہ اس کے تمام راویوں سے احتجاج کیا ہے جو کہ اہل شام کے ایک بزرگ ہیں اور ان کے بیٹے عمر بن عبدالواحد دمشقی ائمہ حدیث میں سے ہیں، اور اس حدیث کا ایک شاہد (تائیدی روایت) بھی موجود ہے جسے شیخین نے «همام بن منبه عن ابي هريره» کے واسطے سے اختصار کے ساتھ روایت کیا ہے۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب العلم / حدیث: 362
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح، ولم نقف عليه من هذا الوجه عند غير المصنف، وانظر ما بعده» [ترقيم الرساله 362] [ترقيم الشركة 356] [ترقيم العلميه 357]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) إسناده صحيح. ولم نقف عليه من هذا الوجه عند غير المصنف، وانظر ما بعده.
درجۂ حدیث: اس کی سند "صحیح" ہے۔
فنی نکتہ / علّت: ہمیں مصنف (حاکم) کے علاوہ کسی اور کے ہاں اس سند کے ساتھ یہ روایت نہیں ملی۔
نوٹ / توضیح: اگلی تفصیل ملاحظہ فرمائیں۔
(2) أخرجه من هذا الطريق البخاري وحده في "صحيحه" برقم (113).
حوالہ / مصدر: اس مخصوص سند (طریق) کے ساتھ اسے صرف امام بخاری نے اپنی "صحیح" میں رقم (113) پر روایت کیا ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 362 سے ماخوذ ہے۔