حدیث نمبر: 361
حدَّثَناه علي بن حَمْشاذَ العَدْل، حدثنا محمد بن نُعَيم، حدثنا قُتيبة بن سعيد، حدثنا خلف بن خَلِيفة، عن حفصٍ ابن أخي أنس، عن أنس قال: كان من دعاءِ النبي ﷺ: "اللهمَّ إني أعوذُ بك من علمٍ لا يَنفَع، وقلبٍ لا يخشَع، ونفسٍ لا تَشبَع، ودعاءٍ لا يُسمَع"، ويقول في آخر ذلك: "اللهمَّ إني أعوذُ بك من هؤلاءِ الأربع" (2). وقد بلغني أنَّ مسلم بن الحَجّاج أخرجه من حديث زيد بن أرقَمَ عن النبي ﷺ (3).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 356 - وهذا على شرط مسلم
حافظ طلحہ بابر

سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ یہ دعا مانگا کرتے تھے: «اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ عِلْمٍ لَا يَنْفَعُ، وَقَلْبٍ لَا يَخْشَعُ، وَنَفْسٍ لَا تَشْبَعُ، وَدُعَاءٍ لَا يُسْمَعُ» ”اے اللہ! میں ایسے علم سے تیری پناہ مانگتا ہوں جو نفع نہ دے، ایسے دل سے جو عاجزی نہ کرے، ایسی نفس سے جو کبھی سیر نہ ہو، اور ایسی دعا سے جو سنی (قبول کی) نہ جائے“، اور آپ ﷺ اس کے آخر میں یہ فرماتے تھے: ”اے اللہ! میں ان چاروں چیزوں سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔“
مجھے یہ خبر پہنچی ہے کہ امام مسلم بن حجاج نے اسے سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ کی حدیث سے نبی کریم ﷺ سے روایت کیا ہے۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب العلم / حدیث: 361
درجۂ حدیث محدثین: حديث صحيح
تخریج حدیث «حديث صحيح، وهذا إسناد قوي» [ترقيم الرساله 361] [ترقيم الشركة 355] [ترقيم العلميه 356]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(2) حديث صحيح، وهذا إسناد قوي.
درجۂ حدیث: یہ حدیث "صحیح" ہے اور اس کی سند "قوی" ہے۔
وأخرجه النسائي (7821) عن قتيبة بن سعيد، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے امام نسائی نے (7821) میں قتیبہ بن سعید کے واسطے سے اسی سند کے ساتھ نقل کیا ہے۔
وأخرجه أحمد 21/ (14023) عن عفان بن مسلم، عن خلف بن خليفة، به.
حوالہ / مصدر: اسے امام احمد نے (21/ 14023) میں عفان بن مسلم عن خلف بن خلیفہ کی سند سے روایت کیا ہے۔
وأخرجه أحمد 20/ (13003) و 21 / (13674)، وابن حبان (83) من طريق حماد بن سلمة، عن قتادة، عن أنس - لكن قال فيه بدلَ "ونفس لا تشبع": "وعمل لا يُرفَع".
حوالہ / مصدر: اسے امام احمد (20/ 13003 اور 21/ 13674) اور ابن حبان (83) نے حماد بن سلمہ عن قتادہ عن انس کی سند سے روایت کیا ہے۔
تفصیلِ روایت: اس روایت میں "ایسا نفس جو سیر نہ ہو" کے بجائے "ایسا عمل جو بلند نہ کیا جائے (مقبول نہ ہو)" کے الفاظ مروی ہیں۔
(3) هو عنده في "صحيحه" برقم (2722).
حوالہ / مصدر: یہ حدیث امام مسلم کے ہاں ان کی "صحیح" میں رقم (2722) پر موجود ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 361 سے ماخوذ ہے۔