حدیث نمبر: 3604
حدثنا علي بن حَمْشاذ العدل، حدثنا هشام بن علي السَّدُوسي، حدثنا موسى بن إسماعيل، حدثنا أبو عَوَانة، أخبرني عمر بن أبي سَلَمة، عن أبيه قال: حدثني أسامة بن زيد قال: كنتُ في المسجد فأتاني العبَّاسُ وعليٌّ فقالا لي: يا أسامةُ، استأذِنْ لنا على رسول الله ﷺ، فدخلتُ على النبي ﷺ فاستأذنتُه فقلت له: إنَّ العبَّاس وعليًّا يستأذِنانِ، قال: "هل تدري ما حاجَتُهما؟ " قلت: لا والله ما أَدري، قال: "لكنِّي أَدْري، ائذَنْ لهما" فدخلا عليه، فقالا: يا رسول الله، جئناك نسألُك: أيُّ أهلِك أحبُّ إليك؟ قال: "أَحبُّ أهلي إليَّ فاطمةُ بنتُ محمدٍ" فقالا: يا رسول الله، ليس نسألُك عن فاطمةَ، قال: "فأسامةُ بنُ زيدٍ الذي أَنْعَمَ اللهُ عليه وأَنعمتُ عليه" (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3562 - عمر بن أبي سلمة ضعيف
حافظ طلحہ بابر

سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں مسجد میں تھا کہ سیدنا عباس اور سیدنا علی رضی اللہ عنہما میرے پاس آئے اور کہا: ”اے اسامہ! ہمارے لیے رسول اللہ ﷺ سے (ملنے کی) اجازت طلب کرو،“ میں نے نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا کہ عباس اور علی (رضی اللہ عنہما) اجازت مانگ رہے ہیں، آپ ﷺ نے پوچھا: ”کیا تم جانتے ہو وہ کس کام سے آئے ہیں؟“ میں نے کہا: ”اللہ کی قسم! میں نہیں جانتا،“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”لیکن میں جانتا ہوں، انہیں اندر آنے دو،“ وہ دونوں حاضر ہوئے اور عرض کیا: ”یا رسول اللہ! ہم آپ سے یہ پوچھنے آئے ہیں کہ آپ کے اہل خانہ میں آپ کو سب سے زیادہ محبوب کون ہے؟“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”فاطمہ بنت محمد میرے اہل خانہ میں مجھے سب سے زیادہ محبوب ہیں،“ انہوں نے عرض کیا: ”یا رسول اللہ! ہم آپ سے فاطمہ رضی اللہ عنہا کے بارے میں نہیں پوچھ رہے،“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”پھر اسامہ بن زید جس پر اللہ نے بھی انعام کیا اور میں نے بھی۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب التفسير / حدیث: 3604
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف لتفرُّد عمر بن أبي سلمة به ففيه ضعيف
تخریج حدیث «إسناده ضعيف لتفرُّد عمر بن أبي سلمة به ففيه ضعيف، والراجح فيه أنه يقتل من حديثه ما توبع عليه، وقد ضعَّف الذهبي في "تلخيصه".» [ترقيم الرساله 3604] [ترقيم الشركة 3583] [ترقيم العلميه 3562]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) إسناده ضعيف لتفرُّد عمر بن أبي سلمة به ففيه ضعيف، والراجح فيه أنه يقتل من حديثه ما توبع عليه، وقد ضعَّف الذهبي في "تلخيصه".
درجۂ حدیث: اس کی سند "ضعیف" ہے کیونکہ اس میں "عمر بن ابی سلمہ" منفرد ہیں اور وہ ضعیف ہیں۔ ان کے بارے میں راجح یہ ہے کہ ان کی وہی حدیث قبول کی جاتی ہے جس پر ان کی متابعت کی گئی ہو۔ ذہبی نے "التلخیص" میں اسے ضعیف کہا ہے۔
وأخرجه الترمذي (3819) عن أحمد بن الحسن، عن موسى بن إسماعيل، بهذا الإسناد. وقال: حديث حسن، وكان شعبة يضعِّف عمر بن أبي سلمة.
حوالہ / مصدر: اسے ترمذی (3819) نے احمد بن حسن سے، انہوں نے موسیٰ بن اسماعیل سے اسی سند کے ساتھ تخریج کیا ہے، اور اسے "حسن" کہا ہے۔ حالانکہ شعبہ "عمر بن ابی سلمہ" کی تضعیف کرتے تھے۔
وسيأتي مختصرًا بآخره برقم (6674).
نوٹ / توضیح: یہ حدیث آگے مختصراً اس کے آخری حصے کے ساتھ نمبر (6674) پر آئے گی۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 3604 سے ماخوذ ہے۔