المستدرك على الصحيحين
كتاب التفسير— تفسیر کا بیان
كَرَاهَةُ السَّمَرِ باب: رات کو غیر ضروری باتیں کرنے کی کراہت
حدیث نمبر: 3529
أخبرني محمد بن إسحاق الصَّفّار، حدثنا أحمد بن نَصْر، حدثنا عمرو بن طلحة، أخبرنا إسرائيل، عن عبد الأعلى، عن سعيد بن جُبَير، عن ابن عبَّاس قال: إنَّما كُرِهَ السَّمَرُ حين نَزَلَت هذه الآية: ﴿مُسْتَكْبِرِينَ بِهِ سَامِرًا تَهْجُرُونَ﴾ [المؤمنون: 67]، قال: مُستكبِرِينَ بالبيت يقولون: نحن أهلُه، ﴿تَهْجُرُونَ﴾ قال: كانوا يَهجُرونَه ولا يَعمُرونَه (2).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3487 - صحيححافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: رات کے وقت قصہ گوئی اور باتوں («سَمَر») کو اس وقت ناپسند کیا گیا جب یہ آیت نازل ہوئی: ﴿مُسْتَكْبِرِينَ بِهِ سَامِرًا تَهْجُرُونَ﴾ [سورة المؤمنون: 67] ”تکبر کرتے ہوئے اس کے بارے میں قصہ گوئی کرتے ہوئے بکواس کرتے تھے۔“ انہوں نے کہا کہ وہ بیت اللہ کی وجہ سے تکبر کرتے تھے اور کہتے تھے کہ ہم اس کے رکھوالے ہیں، اور ﴿تَهْجُرُونَ﴾ کا مطلب یہ ہے کہ وہ اسے چھوڑے رکھتے تھے اور اسے (عبادت سے) آباد نہیں کرتے تھے۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(2) إسناده ضعيف لضعف عبد الأعلى: وهو ابن عامر الثعلبي.
درجۂ حدیث: (2) اس کی سند عبد الاعلیٰ (ابن عامر الثعلبی) کے "ضعف" کی وجہ سے "ضعیف" ہے۔
وأخرجه النسائي (11288) من طريق عُبيد الله بن موسى، عن إسرائيل، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے نسائی (11288) نے عبید اللہ بن موسیٰ عن اسرائیل سے روایت کیا ہے۔
درجۂ حدیث: (2) اس کی سند عبد الاعلیٰ (ابن عامر الثعلبی) کے "ضعف" کی وجہ سے "ضعیف" ہے۔
وأخرجه النسائي (11288) من طريق عُبيد الله بن موسى، عن إسرائيل، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے نسائی (11288) نے عبید اللہ بن موسیٰ عن اسرائیل سے روایت کیا ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 3529 سے ماخوذ ہے۔