المستدرك على الصحيحين
كتاب التفسير— تفسیر کا بیان
فَضِيلَةُ التَّيْسِيرِ عَلَى الْمُوسِرِ وَإِنْظَارِ الْمُعْسِرِ باب: مالدار پر نرمی کرنے اور تنگ دست کو مہلت دینے کی فضیلت
أخبرنا أبو زكريا يحيى بن محمد العَنبَري، حدثنا محمد بن عبد السلام، حدثنا إسحاق بن إبراهيم، أخبرنا أبو خالد الأحمر، حدثنا سعد بن طارق أبو مالك الأشجَعي، حدثنا رِبْعيُّ بن حِرَاش، عن حُذيفة قال: "أُتِيَ الله بعبد من عبادِه آتاه الله مالًا، فقال له: ماذا عملتَ في الدنيا؟ - قال: ﴿وَلَا يَكْتُمُونَ اللَّهَ حَدِيثًا﴾ [النساء: 42]- فقال: ما عملتُ من شيء يا ربِّ إلَّا أنك آتيتني مالًا فكنتُ أبايع الناسَ، وكان من خُلُقي أن أيسِّرَ على المُوسِر وأُنظِرَ المُعسِرَ، قال الله: أنا أحقُّ بذلك منك، تَجاوَرُوا عن عبدي". فقال عُقْبة بن عامر الجُهَني وأبو مسعود الأنصاري: هكذا سمعنا من فِي رسول الله ﷺ (4).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه!
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3197 - على شرط مسلمسیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ (رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:) ”اللہ کے حضور اس کے بندوں میں سے ایک بندہ لایا گیا جسے اللہ نے مال عطا فرمایا تھا، اللہ نے اس سے پوچھا: تم نے دنیا میں کیا عمل کیا؟ - (راوی کہتے ہیں کہ وہ لوگ) ﴿وَلَا يَكْتُمُونَ اللَّهَ حَدِيثًا﴾ ”اللہ سے کوئی بات نہیں چھپا سکیں گے“ [سورة النساء: 42] - تو اس نے عرض کی: اے میرے رب! میں نے کوئی (خاص) عمل نہیں کیا سوائے اس کے کہ تو نے مجھے مال دیا تھا تو میں لوگوں کے ساتھ خرید و فروخت کیا کرتا تھا، اور میرا یہ رویہ تھا کہ میں مالدار (قرض دار) کے لیے آسانی کرتا تھا اور تنگدست کو مہلت دیا کرتا تھا، تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا: میں اس (درگزر) کا تم سے زیادہ حقدار ہوں، میرے اس بندے سے درگزر کر دو“۔ سیدنا عقبہ بن عامر جہنی اور سیدنا ابو مسعود انصاری رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ہم نے بھی اسی طرح رسول اللہ ﷺ کی زبانِ مبارک سے سنا ہے۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
درجۂ حدیث: یہ حدیث صحیح ہے، اور یہ سند ابو خالد الاحمر (سلیمان بن حیان) کی وجہ سے ’قوی‘ ہے، اور ان کی متابعت کی گئی ہے۔
حوالہ / مصدر: اسے مسلم نے (1560) (29) میں ابو سعید الاشج سے، انہوں نے ابو خالد الاحمر سے اسی سند کے ساتھ تخریج کیا ہے؛
اہم نکتہ: چنانچہ حاکم کا اس پر استدراک کرنا ان کی بھول ہے۔
حوالہ / مصدر: اور اسے احمد نے 28/ (18064) میں یزید بن ہارون سے، انہوں نے ابو مالک الاشجعی سے اسی سند کے ساتھ نکالا ہے۔
وأخرجه بنحوه أحمد 38/ (23353) و (23384) و (23463)، والبخاري (2077) و (2391) و (3451)، ومسلم (1560)، وابن ماجه (2420) من طرق عن ربعي بن حراش، به.
حوالہ / مصدر: اس کی مثل احمد نے 38/ (23353)، (23384) اور (23463) میں، بخاری نے (2077)، (2391) اور (3451) میں، مسلم نے (1560) میں، اور ابن ماجہ نے (2420) میں ربعی بن حراش کے مختلف طرق سے اسی سند کے ساتھ تخریج کیا ہے۔