المستدرك على الصحيحين
كتاب التفسير— تفسیر کا بیان
ذِكْرُ فَضِيلَةِ سُورَةِ الْفَاتِحَةِ مَا أُنْزِلَتْ مِثْلُهَا فِي الْكُتُبِ الْمُتَقَدِّمَةِ باب: سورۂ فاتحہ کی فضیلت کا بیان کہ اس جیسی کوئی سورت پہلی کتابوں میں نازل نہیں ہوئی
حدثنا أبو العبَّاس محمد بن يعقوب، حدثنا الحسن بن علي بن عفَّان العامِري، حدثنا أبو أسامة، حدثني عبد الحميد بن جعفر، عن العلاء بن عبد الرحمن، عن أبيه، عن أبي هريرة، عن أُبيِّ بن كعب قال: قال رسول الله ﷺ: "ألا أعلِّمُك سورةً ما أُنزِلَت في التوراة ولا في الإنجيل ولا في الزَّبُور ولا في الفُرقانِ مِثلُها" فقلت: بلي، قال: "إني لأرجُو أن لا تَخرُجَ من ذلك الباب حتى تَعلَّمَها" فقام رسول الله ﷺ وقمتُ معه، فجعل يحدِّثني ويدي في يده، فجعلتُ أتباطأُ كراهيةَ أن يخرج قبل أن يُخبِرَني بها، فلما دَنَوتُ من الباب قلت: يا رسول الله، السورةَ التي وَعَدْتني، قال: "كيف تقرأُ إذا قمتَ إلى الصلاة" فقرأتُ فاتحةَ الكتاب، فقال: "هيَ هيَ، وهي السَّبْعُ المَثَاني، والقرآنُ العظيم الذي أُعطِيتُ" (3).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه. وقد رواه مالك بن أنس عن العلاء بن عبد الرحمن بإسناد آخر:
سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”کیا میں تمہیں ایسی سورت نہ سکھاؤں کہ اس جیسی نہ تورات میں نازل ہوئی، نہ انجیل میں، نہ زبور میں اور نہ ہی فرقان (قرآن) میں؟“ میں نے عرض کیا: کیوں نہیں (ضرور سکھائیے)۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”مجھے امید ہے کہ تم اس دروازے سے نکلنے سے پہلے اسے سیکھ لو گے۔“ پھر رسول اللہ ﷺ کھڑے ہوئے اور میں بھی آپ کے ساتھ چل پڑا، آپ ﷺ مجھ سے گفتگو فرمانے لگے جبکہ میرا ہاتھ آپ ﷺ کے مبارک ہاتھ میں تھا، میں جان بوجھ کر چلنے میں سستی کرنے لگا اس اندیشے سے کہ کہیں آپ ﷺ (بات مکمل کرنے سے پہلے) دروازے سے باہر نہ نکل جائیں، جب میں دروازے کے قریب پہنچا تو میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! وہ سورت جس کا آپ نے مجھ سے وعدہ فرمایا تھا؟ آپ ﷺ نے دریافت فرمایا: ”جب تم نماز کے لیے کھڑے ہوتے ہو تو کیا پڑھتے ہو؟“ تو میں نے فاتحۃ الکتاب پڑھی، آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”یہی وہ سورت ہے، اور یہی وہ ”سبع مثانی“ (بار بار دہرائی جانے والی سات آیات) اور ”قرآن عظیم“ ہے جو مجھے عطا کیا گیا ہے۔“
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین (امام بخاری و مسلم) نے اسے روایت نہیں کیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔
تفصیلِ روایت: اور یہ مکرر ہے (2071)۔