المستدرك على الصحيحين
كتاب الإيمان— ایمان کا بیان
الْقَدَرِيَّةُ مَجُوسُ هَذِهِ الْأُمَّةِ باب: تقدیر کے منکر اس امت کے مجوسی ہیں۔
حدیث نمبر: 289
حدثنا أبو بكر أحمد بن سلمان بن الحسن الفقيه إملاءً، حدثنا أبو داود سليمان بن الأشعث، حدثنا موسى بن إسماعيل، حدثنا عبد العزيز بن أبي حازم، عن أبيه، عن ابن عمر، عن النبي ﷺ قال: "القَدَريَّة مَجُوسُ هذه الأُمَّة، إن مَرِضُوا فلا تَعُودُوهم، وإن ماتوا فلا تَشْهَدُوهم" (3).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين إن صحَّ سماعُ أبي حازم من ابن عمر، ولم يُخرجاه. وشاهدُه:
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”قدریہ (تقدیر کا انکار کرنے والے) اس امت کے مجوسی ہیں، اگر وہ بیمار ہوں تو ان کی عیادت کو نہ جاؤ اور اگر وہ مر جائیں تو ان کے جنازے میں شریک نہ ہو۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے اگر ابو حازم کا سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے سماع ثابت ہو جائے، لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(3) إسناده ضعيف لانقطاعه، أبو حازم - وهو سلمة بن دينار - لم يسمع من ابن عمر، وبهذا أعلَّه المنذري في "مختصر سنن أبي داود" 7/ 58.
والحديث في "سنن أبي داود" برقم (4691). وانظر التعليق على "مسند أحمد" 9/ (5584).
درجۂ حدیث: سند انقطاع کی وجہ سے ضعیف ہے۔
فنی نکتہ / علّت: ابوحازم (سلمہ بن دینار) نے ابن عمر سے نہیں سنا، اسی وجہ سے علامہ مندری نے "مختصر سنن ابی داؤد" (ج 7، ص 58) میں اسے معلول (عیب دار) قرار دیا ہے۔
حوالہ / مصدر: یہ حدیث سنن ابی داؤد (4691) میں ہے، مزید بحث مسند احمد (9/5584) کے حاشیے میں دیکھیں۔
والحديث في "سنن أبي داود" برقم (4691). وانظر التعليق على "مسند أحمد" 9/ (5584).
درجۂ حدیث: سند انقطاع کی وجہ سے ضعیف ہے۔
فنی نکتہ / علّت: ابوحازم (سلمہ بن دینار) نے ابن عمر سے نہیں سنا، اسی وجہ سے علامہ مندری نے "مختصر سنن ابی داؤد" (ج 7، ص 58) میں اسے معلول (عیب دار) قرار دیا ہے۔
حوالہ / مصدر: یہ حدیث سنن ابی داؤد (4691) میں ہے، مزید بحث مسند احمد (9/5584) کے حاشیے میں دیکھیں۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 289 سے ماخوذ ہے۔