حدیث نمبر: 288
حدثنا أبو جعفر محمد بن صالح بن هانئ، حدثنا السَّرِيّ بن خُزَيمة، حدثنا أبو عبد الرحمن عبد الله بن يزيد المقرئ. وأخبرنا أحمد بن جعفر القَطِيعي، حدثنا عبد الله بن أحمد بن حنبل، حدثني أبي، حدثنا عبد الله بن يزيد، حدثنا سعيد بن [أبي] أيوب، أخبرني أبو صَخْر، عن نافع قال: كان لابن عمر صديقٌ من أهل الشام يكاتبُه، فكَتَبَ إليه عبدُ الله بن عُمر: أنه بَلَغَني أنك تكلَّمت في شيءٍ من القَدَر، فإياك أن تكتبَ إليَّ، فإني سمعت رسول الله ﷺ يقول: "إنَّه سيكون في أمَّتي أقوامٌ يكذِّبون بالقَدَر" (2).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، فقد احتجَّ بأبي صخرٍ حميد بن زياد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 285 - على شرط مسلم
حافظ طلحہ بابر

نافع سے روایت ہے کہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کا شام میں ایک دوست تھا جس سے ان کی خط و کتابت رہتی تھی، سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے اسے خط لکھا کہ: مجھے یہ اطلاع ملی ہے کہ تم نے تقدیر کے بارے میں کچھ (غلط) باتیں کی ہیں، لہٰذا اب مجھے دوبارہ خط نہ لکھنا، کیونکہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے: ”عنقریب میری امت میں ایسے لوگ ہوں گے جو تقدیر کو جھٹلائیں گے۔“
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے، کیونکہ انہوں نے ابوصخر حمید بن زیاد سے احتجاج کیا ہے، لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الإيمان / حدیث: 288
درجۂ حدیث محدثین: إسناده حسن
تخریج حدیث «إسناده حسن،إن شاء الله، وذلك من أجل أبي صخر: وهو حميد بن زياد» [ترقيم الرساله 288] [ترقيم الشركة 284] [ترقيم العلميه 285]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(2) إسناده حسن إن شاء الله، وذلك من أجل أبي صخر: وهو حميد بن زياد.
درجۂ حدیث: اس کی سند ابوصخر (حمید بن زیاد) کی وجہ سے حسن ہے ان شاء اللہ۔
والحديث في "مسند أحمد" 9/ (5639)، وعن أحمد أخرجه أيضًا أبو داود (4613).
حوالہ / مصدر: یہ حدیث "مسند احمد" (ج 9، 5639) میں ہے، اور امام احمد کے واسطے سے اسے ابوداؤد (4613) نے بھی روایت کیا ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 288 سے ماخوذ ہے۔