حدیث نمبر: 2828
أخبرني أبو الحسين محمد بن أحمد بن تَميم القَنْطري ببغداد، حدثنا أبو قِلابة، حدثنا أبو عاصم، حدثنا عبد الله بن المؤمَّل، عن ابن أبي مُلَيكة: أنَّ أبا الجَوزاء أتى ابنَ عباس، فقال: أتعلَمُ أنَّ ثلاثًا كُنّ يُردَدْن على عهد رسول الله ﷺ إلى واحدةٍ؟ قال: نعم (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2792 - ابن المؤمل ضعفوهحافظ طلحہ بابر
ابوالجوزاء سے روایت ہے کہ وہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کی خدمت میں حاضر ہوئے اور دریافت کیا: کیا آپ کے علم میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے عہدِ مبارک میں (اکٹھی دی گئی) تین طلاقیں ایک ہی شمار کر کے (رجوع کے لیے) لوٹا دی جاتی تھیں؟ انہوں نے فرمایا: ”جی ہاں۔“
اس حدیث کی سند صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن في المتابعات والشواهد من أجل عبد الله بن المؤمَّل، فهو ضعيف يعتبر به، وقد روي هذا الحديث من وجه آخر صحيح عن ابن عباس سيأتي بعده.
درجۂ حدیث: یہ حدیث "صحیح لغیرہ" ہے، اور یہ سند متابعات اور شواہد میں "حسن" ہے کیونکہ اس میں "عبد اللہ بن المؤمل" ہیں، جو کہ ضعیف ہیں مگر اعتبار کے قابل (یعتبر بہ) ہیں۔ اور یہ حدیث ابن عباس رضی اللہ عنہما سے دوسرے صحیح طریقے سے بھی مروی ہے جو اس کے بعد آئے گا۔
درجۂ حدیث: یہ حدیث "صحیح لغیرہ" ہے، اور یہ سند متابعات اور شواہد میں "حسن" ہے کیونکہ اس میں "عبد اللہ بن المؤمل" ہیں، جو کہ ضعیف ہیں مگر اعتبار کے قابل (یعتبر بہ) ہیں۔ اور یہ حدیث ابن عباس رضی اللہ عنہما سے دوسرے صحیح طریقے سے بھی مروی ہے جو اس کے بعد آئے گا۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 2828 سے ماخوذ ہے۔