المستدرك على الصحيحين
كتاب الإيمان— ایمان کا بیان
الظُّلْمُ ظُلُمَاتٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَإِيَّاكُمْ وَالْفُحْشَ وَالتَّفَحُّشَ وَالشُّحَّ باب: قیامت کے دن ظلم کی تاریکیاں، اور بے حیائی، بدکلامی اور بخل سے بچنے کی تاکید
حدیث نمبر: 28
أخبرَناه أبو الحسين محمد بن أحمد القَنطَري، حدثنا أبو قِلَابة، حدثنا أبو عاصم، عن ابن عَجْلان. وحدثنا أبو بكر بن إسحاق - واللفظ له - أخبرنا أحمد بن إبراهيم بن مِلْحان، حدثنا ابن بُكَير، حدثني الليث، عن محمد بن عَجْلان، عن سعيد بن أبي سعيد المقبُري، عن أبي هريرة قال: قال رسول الله ﷺ: "إياكم والفُحْشَ والتفحُّشَ، فإنَّ الله لا يحبُّ الفاحشَ المتفحِّشَ، وإياكم والظُّلمَ فإنه هو الظُّلُماتُ يومَ القيامة، وإياكم والشُّحَّ، فإنه دعا مَن قَبلَكم فَسَفَكُوا دماءَهم، ودعا مَن قَبلَكم فَقَطَعُوا أرحامَهم، ودعا مَن قَبلَكم فاستَحلُّوا حُرُماتِهم" (1).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 28 - رواه الليث والنبيل عنهحافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”فحش گوئی اور بدزبانی سے بچو، کیونکہ اللہ تعالیٰ فحش گوئی کرنے والے اور زبان درازی کرنے والے کو پسند نہیں فرماتا، اور ظلم سے بچو کیونکہ یہی قیامت کے دن کی تاریکیاں ہیں، اور حرص و بخل سے بچو، کیونکہ اسی (بیماری) نے تم سے پہلے لوگوں کو اس بات پر ابھارا کہ انہوں نے خون بہائے، اپنوں سے ناطے توڑے اور اللہ کی حرام کردہ چیزوں کو حلال کر لیا۔“
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) حديث صحيح، وهذا إسناد قوي من أجل محمد بن عجلان. أبو قلابة: هو عبد الملك بن محمد الرَّقاشي، وأبو عاصم: هو الضحاك بن مَخلَد، وابن بُكير: هو يحيى بن عبد الله بن بكير المصري.
درجۂ حدیث: (1) حدیث "صحیح" ہے، اور یہ سند محمد بن عجلان کی وجہ سے "قوی" ہے۔
وأخرجه أحمد 15/ (9570) عن يحيى بن سعيد القطان، وابن حبان (5177) و (6248) من طريق سفيان بن عيينة، كلاهما عن ابن عجلان، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے احمد (9570) اور ابن حبان (5177) نے یحییٰ القطان اور سفیان بن عیینہ سے، دونوں نے ابن عجلان سے روایت کیا ہے۔
وأخرجه أحمد (9569) عن يحيى القطان، عن عبيد الله بن عمر العُمري، عن سعيد المقبري، به.
حوالہ / مصدر: احمد (9569) نے یحییٰ القطان عن عبید اللہ بن عمر عن سعید المقبری سے بھی روایت کیا ہے۔
درجۂ حدیث: (1) حدیث "صحیح" ہے، اور یہ سند محمد بن عجلان کی وجہ سے "قوی" ہے۔
وأخرجه أحمد 15/ (9570) عن يحيى بن سعيد القطان، وابن حبان (5177) و (6248) من طريق سفيان بن عيينة، كلاهما عن ابن عجلان، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے احمد (9570) اور ابن حبان (5177) نے یحییٰ القطان اور سفیان بن عیینہ سے، دونوں نے ابن عجلان سے روایت کیا ہے۔
وأخرجه أحمد (9569) عن يحيى القطان، عن عبيد الله بن عمر العُمري، عن سعيد المقبري، به.
حوالہ / مصدر: احمد (9569) نے یحییٰ القطان عن عبید اللہ بن عمر عن سعید المقبری سے بھی روایت کیا ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 28 سے ماخوذ ہے۔