حدیث نمبر: 268
أخبرنا أحمد بن جعفر القَطِيعي، حدثنا عبد الله بن أحمد بن حنبل، حدثني أبي، حدثنا عبد الرزاق، أخبرنا مَعمَر، عن ابن خُثَيْم، عن عبد الرحمن بن سابِطٍ، عن جابر بن عبد الله: أنَّ النبي ﷺ قال لكعب بن عُجْرة: "أعاذَكَ اللهُ يا كعبَ بنَ عُجْرة من إمارة السُّفَهاء" قال: وما إمارةُ السفهاء؟ قال: "أمراءُ يكونون بعدي لا يهتَدُون بهَدْيي، ولا يَستنُّون بسُنَّتي، فمن صدَّقهم بكَذِبِهم وأعانهم على ظلمِهم، فأولئك ليسوا منّي ولستُ منهم، ولا يَرِدُون حوضي، ومَن لم يصدِّقهم بكَذِبِهم ولم يُعِنْهم على ظلمِهم، فأولئك منّي وأنا منهم وسيَرِدُون عليَّ حوضي، يا كعبَ بن عُجْرة، لا يدخلُ الجنةَ لحمٌ نَبَتَ من سُحْتٍ، النارُ أَولَى به، يا كعبَ بنَ عُجْرة، الصومُ جُنَّة، والصدقةُ تُطفِئُ الخطيئة، والصلاة قُرْبان - أو قال: برهان -" (2).
حافظ طلحہ بابر

سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے سیدنا کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”اے کعب بن عجرہ! اللہ تمہیں بے وقوفوں کی حکمرانی سے اپنی پناہ میں رکھے۔“ انہوں نے عرض کیا: بے وقوفوں کی حکمرانی کیا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”وہ حکمران جو میرے بعد ہوں گے، نہ تو وہ میری ہدایت پر چلیں گے اور نہ میری سنت کی پیروی کریں گے، پس جس نے ان کے جھوٹ کی تصدیق کی اور ان کے ظلم پر ان کی مدد کی، تو وہ لوگ مجھ سے نہیں ہیں اور نہ ہی میں ان سے ہوں، اور وہ میرے حوض پر نہیں آئیں گے، اور جس نے ان کے جھوٹ کی تصدیق نہ کی اور ان کے ظلم پر ان کی مدد نہ کی، تو وہ مجھ سے ہیں اور میں ان سے ہوں اور وہ عنقریب میرے پاس حوض پر آئیں گے۔ اے کعب بن عجرہ! وہ گوشت جنت میں داخل نہیں ہوگا جو حرام مال سے پلا بڑھا ہو، آگ ہی اس کے لیے زیادہ بہتر ہے؛ اے کعب بن عجرہ! روزہ ڈھال ہے، صدقہ گناہوں کو اس طرح مٹا دیتا ہے (جیسے پانی آگ کو بجھاتا ہے) اور نماز اللہ کا قرب (یا فرمایا: دلیل و برہان) ہے۔“

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الإيمان / حدیث: 268
درجۂ حدیث محدثین: صحيح لغيره
تخریج حدیث «صحيح لغيره، وهذا إسناد قوي من أجل ابن خثيم: وهو عبد الله بن عثمان بن خثيم» [ترقيم الرساله 268] [ترقيم الشركة 265]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(2) صحيح لغيره، وهذا إسناد قوي من أجل ابن خثيم: وهو عبد الله بن عثمان بن خثيم. والحديث في "مسند أحمد" 22/ (14441).
درجۂ حدیث: یہ روایت "صحیح لغیرہ" ہے اور ابن خثیم (عبداللہ بن عثمان بن خثیم) کی وجہ سے یہ سند قوی ہے۔
حوالہ / مصدر: یہ حدیث "مسند احمد" (ج22، حدیث 14441) میں موجود ہے۔
ومن طريق عبد الرزاق أخرجه أيضًا ابن حبان (4514). وسيأتي من هذا الطريق عند المصنف

برقم (7340) و (8507)، وبرقم (6143) من طريق وهيب بن خالد عن ابن خثيم.

حوالہ / مصدر: عبدالرزاق کے طریق سے اسے ابن حبان (4514) نے بھی روایت کیا ہے، اور مصنف کے ہاں یہ روایت اسی طریق سے نمبر (7340) اور (8507) پر آئے گی، جبکہ وہیب بن خالد عن ابن خثیم کے طریق سے نمبر (6143) پر آئے گی۔
وأخرجه ابن حبان (1723) من طريق حماد بن سلمة، عن ابن خثيم، به - وزاد فيه: "والناس غاديانِ، فمبتاعٌ نفسَه فمعتق رقبته ومُوبقها".
حوالہ / مصدر: اسے ابن حبان نے (1723) میں حماد بن سلمہ عن ابن خثیم کے طریق سے روایت کیا ہے۔
تفصیلِ روایت: اس میں یہ اضافہ ہے: "لوگ صبح کو دو طرح نکلتے ہیں؛ ایک وہ جو اپنی جان کا سودا کر کے اسے (جہنم سے) آزاد کر لیتا ہے اور دوسرا وہ جو اپنی جان کو ہلاکت میں ڈال دیتا ہے"۔
وفي الباب عن عبد الرحمن بن سمرة سيرد عند المصنف برقم (7339)، وعن غير واحد من الصحابة ذكرناهم عند حديث ابن عمر في "مسند أحمد" 9/ (5702).
نوٹ / توضیح: اس باب میں عبدالرحمن بن سمرہ سے مروی روایت مصنف کے ہاں نمبر (7339) پر آئے گی۔
متابعات و شواہد: دیگر صحابہ کی مرویات کا ذکر ہم نے "مسند احمد" (ج9، حدیث 5702) میں ابن عمر کی حدیث کے تحت کر دیا ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 268 سے ماخوذ ہے۔