حدیث نمبر: 269
حدثنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب الحافظ - حدثنا يحيى بن محمد بن يحيى، حدثنا عَيّاش بن الوليد الرَّقّام، حدثنا عبد الأعلى بن عبد الأعلى، حدثنا حمَيد، عن أنس قال: قال رسول الله ﷺ: "دخلتُ الجنةَ فإذا أنا بنهرٍ يجري حافَتَاهُ خِيامُ اللؤلؤ، فضربتُ بيدي إلى مَجرَى الماءِ، فإذا مِسكٌ أَذفَرُ، فقلت لجبريل: ما هذا؟ قال: هذا الكَوْثرُ الذي أعطاكَهُ ربُّك ﷿" (1).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه بهذا اللفظ.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 266 - على شرطهما
حافظ طلحہ بابر

سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”میں جنت میں داخل ہوا تو وہاں میں نے ایک ایسی نہر دیکھی جس کے دونوں کناروں پر موتیوں کے خیمے تھے، میں نے اپنا ہاتھ پانی کے بہاؤ کی جگہ پر مارا تو وہ خالص اور تیز خوشبو والی کستوری تھی، میں نے جبریل سے پوچھا: یہ کیا ہے؟ انہوں نے کہا: یہ وہ کوثر ہے جو آپ کے رب عزوجل نے آپ کو عطا فرمائی ہے۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے، لیکن انہوں نے ان الفاظ کے ساتھ اسے روایت نہیں کیا۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الإيمان / حدیث: 269
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح، حميد: هو ابن أبي حميد الطويل» [ترقيم الرساله 269] [ترقيم الشركة 266] [ترقيم العلميه 266]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) إسناده صحيح. حميد: هو ابن أبي حميد الطويل.
درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔
ناموں کی تحقیق: حمید سے مراد حمید بن ابی حمید الطویل ہیں۔
وأخرجه أحمد 19/ (12008) و (12151) و 21/ (13776)، والنسائي (11642)، وابن حبان (6472) و (6473) من طرق عن حميد الطويل، به.
حوالہ / مصدر: اسے امام احمد (ج19، حدیث 12008، 12151 اور ج21، حدیث 13776)، نسائی (11642) اور ابن حبان (6472، 6473) نے حمید الطویل کے مختلف طریقوں سے روایت کیا ہے۔
وأخرجه بنحوه أحمد 20/ (12989) و (13156) و 21/ (13425) و (14079)، والبخاري (6581)، وأبو داود (4748)، والترمذي (3360)، والنسائي (11469)، وابن حبان (6474) من طريق قتادة، عن أنس.
حوالہ / مصدر: اسی مفہوم کے ساتھ اسے امام احمد (متعدد مقامات)، بخاری (6581)، ابوداؤد (4748)، ترمذی (3360)، نسائی (11469) اور ابن حبان (6474) نے قتادہ عن انس رضی اللہ عنہ کے طریق سے روایت کیا ہے۔
الأذفر: طيِّب الرِّيح.
نوٹ / توضیح: لفظ "الأذفر" کے معنی نہایت خوشبودار (عمدہ مہک والا) کے ہیں۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 269 سے ماخوذ ہے۔