حدیث نمبر: 267
فأخبرَناه أبو محمد الحسن بن محمد الإسفَرَاييني، حدثنا عبد الله بن أحمد بن حنبل، حدثنا هارون بن إسحاق الهَمْداني، حدثني محمد بن عبد الوهاب القَنّاد، حدثنا سفيان ومِسعَر، عن أبي حَصِين، عن الشَّعْبي، عن عاصم العَدَوي، عن كعب بن عُجْرة قال: خرجَ علينا رسول الله ﷺ ونحن تسعةٌ وبيننا وسائدُ من أَدَمٍ أحمرَ، فقال: "إنَّه سيكون بعدي أمراءُ فمن صدَّقهم بكَذِبِهم وأعانهم على ظُلمِهم، فليس منِّي ولست منه، ولن يَرِدَ عليَّ الحوضَ، ومن لم يُصدِّقْهم بكذبهم ولم يُعِنْهم على ظلمِهم، فهو منِّي وأنا منه، وسيَرِدُ عليَّ الحوضَ" (1). وقد شَهِدَ جابر بن عبد الله قولَ رسول الله ﷺ هذا لكعب بن عُجْرة:
حافظ طلحہ بابر

سیدنا کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ ہمارے پاس تشریف لائے، ہم نو افراد تھے اور ہمارے درمیان سرخ چمڑے کے تکیے رکھے ہوئے تھے، پھر آپ ﷺ نے فرمایا: ”بے شک میرے بعد عنقریب ایسے حکمران ہوں گے، پس جس نے ان کے جھوٹ کی تصدیق کی اور ان کے ظلم پر ان کی مدد کی، تو وہ مجھ سے نہیں ہے اور نہ ہی میں اس سے ہوں، اور وہ حوض پر میرے پاس ہرگز نہیں پہنچے گا، اور جس نے ان کے جھوٹ کی تصدیق نہ کی اور ان کے ظلم پر ان کی مدد نہ کی، تو وہ مجھ سے ہے اور میں اس سے ہوں، اور وہ عنقریب میرے پاس حوض پر پہنچے گا۔“

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الإيمان / حدیث: 267
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح.» [ترقيم الرساله 267] [ترقيم الشركة 264]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) إسناده صحيح.
درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔
وأخرجه الترمذي (2259)، والنسائي (7783 - 7784)، وابن حبان (279) من طريق هارون بن إسحاق، بهذا الإسناد - ولم يذكر ابن حبان في حديثه سفيانَ.
حوالہ / مصدر: اسے امام ترمذی (2259)، نسائی (7783-7784) اور ابن حبان (279) نے ہارون بن اسحاق کے طریق سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے؛ تاہم ابن حبان نے اپنی روایت میں (سفیان الثوری) کا ذکر نہیں کیا۔
وأخرجه أحمد 30/ (18126)، والنسائي (7782) و (8705)، وابن حبان (282) و (283) و (285) من طرق عن سفيان الثوري، به.
حوالہ / مصدر: اسے امام احمد (ج30، حدیث 18126)، نسائی (7782 اور 8705) اور ابن حبان (282، 283، 285) نے سفیان الثوری کے مختلف طریقوں سے روایت کیا ہے۔
وأخرجه الترمذي (614) من طريق طارق بن شهاب، عن كعب بن عجرة. وانظر تتمة تخريجه في "مسند أحمد".
حوالہ / مصدر: اسے امام ترمذی (614) نے طارق بن شہاب عن کعب بن عجرہ کے طریق سے روایت کیا ہے۔
نوٹ / توضیح: مکمل تخریج کے لیے "مسند احمد" ملاحظہ کریں۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 267 سے ماخوذ ہے۔