المستدرك على الصحيحين
كتاب الإيمان— ایمان کا بیان
مَنْ دَخَلَ عَلَى أُمَرَاءَ فَصَدَّقَهُمْ بِكَذِبِهِمْ وَأَعَانَهُمْ عَلَى ظُلْمِهِمْ لَيْسَ بِوَارِدٍ عَلَى الْحَوْضِ باب: جو حکمرانوں کے پاس جا کر ان کے جھوٹ کی تصدیق کرے اور ظلم میں ان کی مدد کرے وہ حوضِ کوثر پر نہیں آئے گا۔
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا العباس بن محمد الدُّورِي، حدثنا عبد الله بن بكر السَّهْمي، حدثنا حاتم بن أبي صَغِيرة، عن سِمَاك بن حَرْب، أنَّ عبد الله بن خَبَّاب أخبرهم قال: أخبرني خبَّابٌ: أنه كان قاعدًا على باب النبي ﷺ، قال: فخرج ونحن قعودٌ، فقال: "اسمَعُوا" قلنا: سَمِعْنا يا رسول الله، قال: "إنَّه سيكون أمراءُ من بعدي، فلا تُصدِّقُوهم بكَذِبِهم ولا تُعِينُوهم على ظُلمِهم، فإنه مَن صدَّقهم بكَذِبِهم وأعانهم على ظُلمِهم، فلن يَرِدَ عليَّ الحوضَ" (2).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه. وشاهدُه الحديثُ المشهور عن الشَّعْبي عن كعب بن عُجْرة مع الخلاف عليه فيه:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 262 - على شرط مسلمسیدنا خباب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ نبی کریم ﷺ کے دروازے پر بیٹھے ہوئے تھے، آپ ﷺ باہر تشریف لائے اور ہم سب بیٹھے ہوئے تھے، آپ ﷺ نے فرمایا: ”میری بات سنو“ ہم نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ہم سن رہے ہیں، آپ ﷺ نے فرمایا: ”بے شک میرے بعد ایسے حکمران ہوں گے، پس تم ان کے جھوٹ کی تصدیق نہ کرنا اور نہ ہی ان کے ظلم پر ان کی مدد کرنا، کیونکہ جس نے ان کے جھوٹ کی تصدیق کی اور ان کے ظلم پر ان کی مدد کی، وہ میرے پاس حوض پر نہیں آ سکے گا۔“
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے، لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا، اور اس کا شاہد وہ مشہور حدیث ہے جو امام شعبی نے کعب بن عجرہ سے روایت کی ہے، اگرچہ اس میں اختلاف بھی پایا جاتا ہے۔
تشریح، فوائد و مسائل
درجۂ حدیث: یہ روایت "صحیح لغیرہ" ہے۔
فنی نکتہ / علّت: سماک بن حرب اور عبداللہ بن خباب کے درمیان سند منقطع (ٹوٹی ہوئی) ہے۔ حاکم کی روایت میں سماک کا یہ کہنا کہ "عبداللہ بن خباب نے انہیں خبر دی"، اگر اس سے مراد براہِ راست سماع ہے تو یہ وہم ہے؛ جیسا کہ حافظ ابن حجر نے "الامالی المطلقہ" (ص 220) میں صراحت کی ہے کہ سماک کا عبداللہ بن خباب سے سماع ثابت نہیں ہے۔ امام احمد کے بقول عبداللہ بن خباب کو خوارج نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کی خلافت کے دوران 38 ہجری میں شہید کر دیا تھا، جبکہ اس وقت سماک پیدا ہی نہیں ہوئے تھے یا اتنے چھوٹے تھے کہ تمیز نہیں رکھتے تھے۔
وأخرجه أحمد 34/ (21074) و 45/ (27218)، وابن حبان (284) من طريقين عن حاتم بن أبي صغيرة، بهذا الإسناد. وهو عندهما بالعنعنة وليس عندهما لفظ الإخبار.
حوالہ / مصدر: اسے امام احمد (ج34، حدیث 21074 اور ج45، حدیث 27218) اور ابن حبان (284) نے حاتم بن ابی صغیرہ کے دو طریقوں سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
فنی نکتہ / علّت: ان دونوں کے ہاں روایت "عنعنہ" (یعنی 'عن' کے لفظ) سے ہے، اس میں براہِ راست خبر دینے (اخبار) کا لفظ موجود نہیں ہے۔
وله شواهد تصححه، منها حديثا كعب بن عُجرة وجابر بن عبد الله الآتيان، وأحاديث أخرى انظرها عند تخريج حديث ابن عمر في "مسند أحمد" 9/ (5702).
متابعات و شواہد: اس روایت کے کئی شواہد موجود ہیں جو اسے صحیح ثابت کرتے ہیں، جن میں کعب بن عجرہ اور جابر بن عبداللہ کی آنے والی احادیث شامل ہیں۔
حوالہ / مصدر: دیگر احادیث کے لیے "مسند احمد" (ج9، حدیث 5702) میں ابن عمر کی حدیث کی تخریج دیکھیں۔