حدیث نمبر: 265
أخبرَناه أبو بكر محمد بن إبراهيم البزَّاز ببغداد، حدثنا محمد بن مَسْلَمة الواسطي، حدثنا محمد بن سابق، حدثنا مالك بن مِغوَل، عن أبي حَصِين، عن الشَّعْبي، عن كعب بن عُجْرة قال: خرج علينا رسول الله ﷺ ذاتَ يومٍ ونحن في المسجد، خمسةٌ من العرب وأربعةٌ من العَجَم، فقال: "تَسْمَعُون؟ " قلنا: سَمِعنا، مرتين، قال: "اسْمَعُوا، إنه سيكون بعدي أمراءُ، فمَن دَخَلَ عليهم فصدَّقهم بكَذِبِهم، وأعانهم على ظُلمِهم، فليس منِّي ولستُ منه، وليس بواردٍ عليَّ الحوضَ، ومَن لم يَدخُلْ عليهم ولم يُصدِّقْهم بكذبهم، ولم يُعِنْهم على ظلمِهم، فهو منِّي وأنا منه، وسيَرِدُ عليَّ الحوضَ" (1). رواه مِسعَر بن كِدَام وسفيان الثَّوْري، عن أبي حَصِين، عن الشَّعْبي، عن عاصم العَدَوي، عن كعب بن عُجْرة. أما حديث الثَّوري:
حافظ طلحہ بابر

سیدنا کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک دن رسول اللہ ﷺ ہمارے پاس تشریف لائے جبکہ ہم مسجد میں تھے، ہم میں سے پانچ عرب اور چار غیر عرب تھے، آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا تم سن رہے ہو؟“ ہم نے عرض کیا: جی ہم سن رہے ہیں، آپ ﷺ نے دو بار پوچھا، پھر فرمایا: ”سن لو! میرے بعد عنقریب ایسے حکمران ہوں گے، پس جو شخص ان کے پاس گیا اور ان کے جھوٹ کی تصدیق کی اور ان کے ظلم پر ان کی مدد کی، تو اس کا مجھ سے کوئی تعلق نہیں اور نہ ہی میرا اس سے کوئی تعلق ہے، اور وہ میرے پاس حوض پر ہرگز نہیں آئے گا، اور جس نے ان کے پاس جا کر نہ تو ان کے جھوٹ کی تصدیق کی اور نہ ہی ان کے ظلم پر ان کی مدد کی، وہ مجھ سے ہے اور میں اس سے ہوں، اور وہ عنقریب میرے پاس حوض پر آئے گا۔“

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الإيمان / حدیث: 265
درجۂ حدیث محدثین: حديث صحيح
تخریج حدیث «حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف، فيه محمد بن مسلمة، وفيه مقال - كما سيأتي بيانه عند الحديث (2966) - وفيه انقطاع بين الشعبي وكعب بن عجرة، بينهما في هذا الحديث عاصم العدوي كما سيذكر المصنف- وانظر ما بعده-» [ترقيم الرساله 265] [ترقيم الشركة 263]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف، فيه محمد بن مسلمة، وفيه مقال - كما سيأتي بيانه عند الحديث (2966) - وفيه انقطاع بين الشعبي وكعب بن عجرة، بينهما في هذا الحديث عاصم العدوي كما سيذكر المصنف. وانظر ما بعده.
درجۂ حدیث: حدیث صحیح ہے، لیکن یہ مخصوص سند ضعیف ہے۔
فنی نکتہ / علّت: اس میں ایک راوی محمد بن مسلمہ ہے جس پر کلام ہے (جیسا کہ حدیث 2966 میں آئے گا)، نیز شعبی اور کعب بن عجرہ کے درمیان انقطاع ہے؛ ان دونوں کے درمیان اس حدیث میں عاصم العدوی کا واسطہ ہے جیسا کہ خود مصنف ذکر کریں گے۔
أبو حَصين: هو عثمان بن عاصم الأسدي، والشعبي: هو عامر بن شَرَاحيل.
ناموں کی تحقیق: ابو حصین سے مراد عثمان بن عاصم الاسدی ہیں، اور شعبی سے مراد عامر بن شراحیل ہیں۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 265 سے ماخوذ ہے۔