المستدرك على الصحيحين
كتاب الإيمان— ایمان کا بیان
مَنْ خَرَجَ مِنَ الْجَمَاعَةِ قِيدَ شِبْرٍ فَقَدْ خَلَعَ رِبْقَةَ الْإِسْلَامِ مِنْ عُنُقِهِ حَتَّى يُرَاجِعَهُ باب: جو شخص جماعت سے بالشت بھر بھی الگ ہوا اس نے اپنے گلے سے اسلام کا پٹہ اتار دیا یہاں تک کہ واپس لوٹ آئے۔
حدیث نمبر: 263
أخبرَناه أبو العباس السَّيّاري بمَرْو، حدثنا أبو الموجِّه، حدثنا عَبْدانُ، حدثنا عبد الوهاب بن عبد المجيد (1)، حدثنا حميد، عن أنس قال: دخلتُ على عبيد الله بن زياد وهم يتراجعون في ذِكْر الحوض، ثم ذكره بمثله.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 260 - على شرطهماحافظ طلحہ بابر
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں عبیداللہ بن زیاد کے پاس گیا جبکہ وہ حوض کا ذکر کر رہے تھے، پھر انہوں نے اسی طرح کی روایت بیان کی۔
حمید سے مروی اس کا ایک صحیح شاہد بھی شیخین کی شرط پر موجود ہے۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) تحرَّف في النسخ الخطية إلى: عبد الوهاب بن عبد الحميد.
فنی نکتہ / علّت: قلمی نسخوں میں یہ نام تحریف (غلطی) کا شکار ہو کر "عبدالوہاب بن عبدالحمید" لکھا گیا ہے (جو کہ درست نہیں)۔
فنی نکتہ / علّت: قلمی نسخوں میں یہ نام تحریف (غلطی) کا شکار ہو کر "عبدالوہاب بن عبدالحمید" لکھا گیا ہے (جو کہ درست نہیں)۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 263 سے ماخوذ ہے۔