المستدرك على الصحيحين
كتاب : الجهاد— جہاد کا بیان
مَا نَقَضَ قَوْمٌ الْعَهْدَ قَطُّ إِلَّا كَانَ الْقَتْلُ بَيْنَهُمْ وَلَا ظَهَرَتِ الْفَاحِشَةُ فِي قَوْمٍ إِلَّا سَلَّطَ اللَّهُ عَلَيْهِمُ الْمَوْتَ وَلَا مَنَعَ قَوْمٌ الزَّكَاةَ إِلَّا حَبَسَ اللَّهُ عَنْهُمُ الْقَطْرَ . باب: کسی قوم نے عہد نہیں توڑا مگر ان میں قتل عام پھیل گیا، اور کسی قوم میں فحاشی ظاہر نہیں ہوئی مگر اللہ نے ان پر موت مسلط کر دی
حدیث نمبر: 2610
حدثنا أبو علي الحسين بن علي الحافظ، حدثنا عبد الله بن محمد بن ناجيَة، حدثنا أبو كُريب، حدثنا أبو معاوية، حدثنا أبو إسحاق الشَّيباني، عن محمد ابن أبي المُجالِد، عن عبد الله بن أبي أَوفى قال: قلتُ: هل كنتم تخمِّسون الطعامَ في عهدِ رسول الله ﷺ؟ فقال: أصبْنا طعامًا يوم خيبر، وكان الرجل يجيءُ فيأخذُ منه بمِقدار ما يكفيه، ثم ينصرفُ (1). صحيح على شرط البخاري، فقد احتجَّ بمحمد بن أبي المجالد وعبد الله بن أبي المجالد جميعًا، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2578 - على شرط البخاريحافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن ابی اوفیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے ان سے پوچھا: کیا تم لوگ رسول اللہ ﷺ کے عہد میں کھانے پینے کی چیزوں میں سے پانچواں حصہ (خمس) نکالتے تھے؟ انہوں نے فرمایا: ہمیں خیبر کے دن کچھ کھانا ملا تھا، آدمی آتا اور اپنی ضرورت کے مطابق اس میں سے لے لیتا، پھر چلا جاتا (اس پر خمس نہیں لیا جاتا تھا)۔
یہ حدیث امام بخاری کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) إسناده صحيح. أبو كريب: هو محمد بن العلاء، وأبو معاوية: هو محمد بن خازم الضرير، وأبو إسحاق الشَّيباني: هو سليمان بن أبي سليمان.
درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔
ناموں کی تحقیق: ابو کریب سے مراد محمد بن علاء، ابو معاویہ سے مراد محمد بن خازم الضریر اور ابو اسحاق الشیبانی سے مراد سلیمان بن ابی سلیمان ہیں۔
وأخرجه أبو داود (2704) عن أبي كريب محمد بن العلاء، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے ابو داؤد (2704) نے ابو کریب محمد بن علاء کے واسطے سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وسيأتي برقم (2633) من هُشَيم بن بَشير عن أبي إسحاق الشَّيباني وأشعث بن سَوَّار.
تفصیلِ روایت: یہ روایت آگے نمبر (2633) پر ہشیم بن بشیر بحوالہ ابو اسحاق الشیبانی اور اشعث بن سوار کے طریق سے آئے گی۔
درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔
ناموں کی تحقیق: ابو کریب سے مراد محمد بن علاء، ابو معاویہ سے مراد محمد بن خازم الضریر اور ابو اسحاق الشیبانی سے مراد سلیمان بن ابی سلیمان ہیں۔
وأخرجه أبو داود (2704) عن أبي كريب محمد بن العلاء، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے ابو داؤد (2704) نے ابو کریب محمد بن علاء کے واسطے سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وسيأتي برقم (2633) من هُشَيم بن بَشير عن أبي إسحاق الشَّيباني وأشعث بن سَوَّار.
تفصیلِ روایت: یہ روایت آگے نمبر (2633) پر ہشیم بن بشیر بحوالہ ابو اسحاق الشیبانی اور اشعث بن سوار کے طریق سے آئے گی۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 2610 سے ماخوذ ہے۔