حدیث نمبر: 2611
أخبرنا أبو عبد الله محمد بن الصَّنْعاني بمكة، حدثنا إسحاق بن إبراهيم بن عَبّاد الصَّنْعاني، أخبرنا عبد الرزاق. وأخبرنا أبو بكر محمد بن أحمد بن بالَوَيهِ بنَيسابُور وأبو بكر أحمد بن جعفر القَطِيعي ببغداد، قالا: حدثنا عبد الله بن أحمد بن حنبل، حدثني أبي، حدثنا عبد الرزاق، أخبرنا مَعمَر، عن قَتَادة، عن الحسن عن أبي بَكْرة، أنَّ النبي ﷺ قال: "رِيحُ الجنة لَتُوجدُ من مَسِيرة مئة عامٍ، وما مِن عبد يَقتُل نفسًا مُعاهَدَةً إِلَّا حَرَّم الله عليه الجنةَ ورائحتَها أن يَجِدَها". قال أبو بكرة: أصمَّ اللهُ أُذني إن لم أكن سمعت رسول الله ﷺ يقول هذا (2).
هذا حديث صحيح على شرط البخاري، ولم يُخرجاه. وله شاهد عن عبد الله بن عَمرو بإسناد صحيح:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2579 - على شرط البخاري
حافظ طلحہ بابر

سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”جنت کی خوشبو سو سال کی مسافت سے محسوس کی جا سکتی ہے، اور جو کوئی بھی کسی معاہد (ایسا غیر مسلم جس سے امن کا معاہدہ ہو) کو قتل کرے گا، اللہ اس پر جنت اور اس کی خوشبو (پانا) حرام کر دے گا۔“ ابوبکرہ رضی اللہ عنہ نے (تاکیداً) فرمایا: اگر میں نے یہ رسول اللہ ﷺ سے نہ سنا ہو تو میرے کان بہرے ہو جائیں۔
یہ حدیث امام بخاری کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب : الجهاد / حدیث: 2611
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح،الحسن: هو البصري.» [ترقيم الرساله 2611] [ترقيم الشركة 2594] [ترقيم العلميه 2579]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(2) إسناده صحيح. الحسن: هو البصري.
درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔
ناموں کی تحقیق: یہاں الحسن سے مراد "حسن بصری" ہیں۔
وهو في "مسند أحمد" (34/ 20469)، لكنه قال فيه: عن قتادة وغير واحد.
نوٹ / توضیح: یہ روایت مسند احمد (20469) میں بھی ہے، مگر وہاں "عن قتادہ وغیرہ" کے الفاظ ہیں۔
وقد تقدم برقم (134) (135) من طريق يونس بن عبيد عن الحسن البصري.
حوالہ / مصدر: یہ پہلے نمبر (134) اور (135) پر یونس بن عبید عن الحسن بصری کے طریق سے گزر چکی ہے۔
وبرقم (136) من طريق الأشعث بن ثُرْمُلة عن أبي بَكرة.
حوالہ / مصدر: نمبر (136) پر اشعث بن ثرملہ عن ابی بکرہ کے طریق سے مروی ہے۔
وسيأتي برقم (2663) من طريق عبد الرحمن بن جَوشَن عن أبي بَكرة.
تفصیلِ روایت: آگے نمبر (2663) پر عبد الرحمن بن جوشن عن ابی بکرہ کے طریق سے آئے گی۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 2611 سے ماخوذ ہے۔