المستدرك على الصحيحين
كتاب : الجهاد— جہاد کا بیان
قَوْلُ اللَّهِ تَعَالَى لِلْمَلَائِكَةِ فِي حَقِّ الشَّهِيدِ . باب: شہید کے بارے میں اللہ تعالیٰ کا فرشتوں سے فرمان
حدیث نمبر: 2563
أخبرني أحمد بن محمد العَنَزي، حدثنا عثمان بن سعيد الدارمي، حدثنا موسى بن إسماعيل، حدثنا حماد بن سَلَمة، أخبرنا عطاء بن السائب، عن مُرّة الهَمْداني، عن عبد الله بن مسعود، قال: قال رسول الله ﷺ: "عَجِبَ ربُّنا ﷿ من رجلٍ غزا في سبيل الله، فانهزم أصحابُه، فعَلِمَ ما عليه ورجع حتى أُهْريقَ دمُه، فيقول الله تبارك وتعالى لملائكته: انظُروا إلى عبدي، رجع رغبةً فيما عندي، وشفقةً مما عندي حتى أُهْريقَ دمُه" (1). صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. وله شاهد بإسناد صحيح عن أبي ذر:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2531 - صحيححافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”ہمارا رب عزوجل اس شخص سے بہت خوش ہوتا ہے (تعجب فرماتا ہے) جس نے اللہ کی راہ میں غزوہ کیا، پھر اس کے ساتھی شکست کھا کر پیچھے ہٹ گئے، لیکن اسے اپنی ذمہ داری کا احساس ہوا اور وہ واپس لوٹا یہاں تک کہ اس کا خون بہا دیا گیا، تب اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے فرشتوں سے فرماتا ہے: میرے اس بندے کو دیکھو، یہ اس (اجر) کی رغبت میں جو میرے پاس ہے اور اس (عذاب) کے خوف سے جو میرے پاس ہے، واپس لوٹا یہاں تک کہ اس کا خون بہا دیا گیا۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) إسناده صحيح. مُرَّة الهَمْداني: هو ابن شَرَاحيل.
درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔
فنی نکتہ / علّت: مرہ ہمدانی سے مراد مرہ بن شراحیل ہمدانی ہیں۔
وأخرجه أبو داود (2536) عن موسى بن إسماعيل، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے امام ابو داؤد نے (2536) میں موسیٰ بن اسماعیل کے واسطے سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وأخرجه أحمد (7/ 3949)، وابن حبان (2557) و (2558) من طرق عن حماد بن سلمة، به. وقد تابع حمادَ بنَ سلمة عليه زائدة بن قدامة عند الخطيب البغدادي في "موضح أوهام الجمع والتفريق" 2/ 413.
حوالہ / مصدر: اسے امام احمد (7/ 3949) اور ابن حبان (2557) و (2558) نے حماد بن سلمہ کے مختلف طرق سے روایت کیا ہے۔
متابعات و شواہد: خطیب بغدادی کی "موضح اوہام الجمع والتفریق" (2/ 413) میں حماد بن سلمہ کی متابعت زائدہ بن قدامہ نے کی ہے۔
وأخرجه النسائي (10637) من طريق شريك بن عبد الله النخعي، عن أبي إسحاق السَّبيعي، عن أبي عُبيدة بن عبد الله بن مسعود، عن أبيه، موقوفًا عليه. وأبو عُبيدة لم يسمع من أبيه.
درجۂ حدیث: یہ روایت "موقوف" ہے (یعنی صحابی کا قول ہے)۔
فنی نکتہ / علّت: امام نسائی نے اسے (10637) میں شریک بن عبداللہ کے طریق سے نقل کیا ہے، لیکن ابوعبیدہ کا اپنے والد (حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ) سے سماع ثابت نہیں ہے، لہذا یہ سند منقطع ہے۔
وانظر تمام تخريجه والكلام عليه في تحقيقنا على "سنن أبي داود".
نوٹ / توضیح: اس کی مکمل تخریج اور فنی بحث کے لیے "سنن ابی داؤد" پر ہماری تحقیق ملاحظہ فرمائیں۔
درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔
فنی نکتہ / علّت: مرہ ہمدانی سے مراد مرہ بن شراحیل ہمدانی ہیں۔
وأخرجه أبو داود (2536) عن موسى بن إسماعيل، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے امام ابو داؤد نے (2536) میں موسیٰ بن اسماعیل کے واسطے سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وأخرجه أحمد (7/ 3949)، وابن حبان (2557) و (2558) من طرق عن حماد بن سلمة، به. وقد تابع حمادَ بنَ سلمة عليه زائدة بن قدامة عند الخطيب البغدادي في "موضح أوهام الجمع والتفريق" 2/ 413.
حوالہ / مصدر: اسے امام احمد (7/ 3949) اور ابن حبان (2557) و (2558) نے حماد بن سلمہ کے مختلف طرق سے روایت کیا ہے۔
متابعات و شواہد: خطیب بغدادی کی "موضح اوہام الجمع والتفریق" (2/ 413) میں حماد بن سلمہ کی متابعت زائدہ بن قدامہ نے کی ہے۔
وأخرجه النسائي (10637) من طريق شريك بن عبد الله النخعي، عن أبي إسحاق السَّبيعي، عن أبي عُبيدة بن عبد الله بن مسعود، عن أبيه، موقوفًا عليه. وأبو عُبيدة لم يسمع من أبيه.
درجۂ حدیث: یہ روایت "موقوف" ہے (یعنی صحابی کا قول ہے)۔
فنی نکتہ / علّت: امام نسائی نے اسے (10637) میں شریک بن عبداللہ کے طریق سے نقل کیا ہے، لیکن ابوعبیدہ کا اپنے والد (حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ) سے سماع ثابت نہیں ہے، لہذا یہ سند منقطع ہے۔
وانظر تمام تخريجه والكلام عليه في تحقيقنا على "سنن أبي داود".
نوٹ / توضیح: اس کی مکمل تخریج اور فنی بحث کے لیے "سنن ابی داؤد" پر ہماری تحقیق ملاحظہ فرمائیں۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 2563 سے ماخوذ ہے۔