حدیث نمبر: 2564
أخبرَناه عبد الرحمن بن الحسن القاضي، حدثنا إبراهيم بن دِيزِيل، حدثنا آدم بن أبي إياس، حدثنا شعبة، عن منصور، عن ربعي بن حِرَاش، عن زيد ابن ظَبْيان رفعه إلى أبي ذر، عن النبي ﷺ قال: "ثلاثةٌ يحبّهم الله، وثلاثةٌ يُبغضهم الله، أما الذين يحبّهم الله فرجل أتى قومًا فسألهم بالله، ولم يسألهم بقَرابةٍ بينهم وبينه، فتخلّف رجلٌ بأعقابهم فأعطاه سِرًّا لا يعلمُ بعَطِيَّته إلّا الله والذي أعطاه، وقومٌ سارُوا ليلَهم حتى إذا كان النومُ أحبَّ إليهم ممّا يَعدِل، نزلُوا فوضعوا رؤوسَهم، فقام يَتَملَّقُني ويَتلُو آياتي، ورجلٌ كان في سريةٍ فلقي العدوَّ، فهُزموا، فأقبل بصَدْره حتى يُقتَل أو يُفتَح له، والثلاثةُ الذين يُبغِضُهم الله: الشيخ الزاني، والفقير المُختال، والغَنيُّ الظَّلُوم" (2).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2532 - صحيح
حافظ طلحہ بابر

سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”تین شخص وہ ہیں جن سے اللہ محبت فرماتا ہے اور تین وہ ہیں جن سے اللہ بغض رکھتا ہے۔ جن سے اللہ محبت فرماتا ہے وہ یہ ہیں: ایک وہ شخص جو کسی قوم کے پاس آکر اللہ کے نام پر سوال کرے اور اپنی کسی قرابت داری کا واسطہ نہ دے، پھر وہ اسے کچھ نہ دیں مگر ان کے پیچھے سے ایک آدمی نکلے اور اسے چھپ کر (صدقہ) دے جس کا علم اللہ اور لینے والے کے سوا کسی کو نہ ہو۔ دوسرے وہ لوگ جو رات بھر سفر کریں یہاں تک کہ جب نیند انہیں ہر چیز سے زیادہ محبوب ہو جائے تو وہ پڑاؤ ڈال کر سر رکھ دیں (سو جائیں)، مگر ان میں سے ایک شخص کھڑا ہو کر میری خوشامد (گڑگڑا کر دعا) کرے اور میری آیات کی تلاوت کرے۔ تیسرا وہ شخص جو کسی لشکر میں ہو اور دشمن سے مقابلہ ہو جائے، جب ساتھی شکست کھا جائیں تو وہ اپنے سینے کے ساتھ آگے بڑھے یہاں تک کہ قتل کر دیا جائے یا اللہ اسے فتح عطا فرما دے۔ اور وہ تین جن سے اللہ بغض رکھتا ہے: بوڑھا زناکار، وہ فقیر جو تکبر کرے، اور وہ مالدار جو ظلم کرے۔“

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب : الجهاد / حدیث: 2564
تخریج حدیث [ترقيم الرساله 2564] [ترقيم الشركة 2547] [ترقيم العلميه 2532]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(2) حديث صحيح، وزيد بن ظبيان - وإن كان لا يُعرف روى عنه غير ربعي بن حِراش - صحَّح حديثه هذا غير المصنف أيضًا جماعةٌ، منهم الترمذي وابنُ خزيمة وابن حبان، وقد توبع.
درجۂ حدیث: حدیث صحیح ہے۔
فنی نکتہ / علّت: زید بن ظبیان اگرچہ ایسے راوی ہیں جن سے صرف ربعی بن حراش نے روایت کی ہے، لیکن مصنف کے علاوہ ائمہ کی ایک جماعت (ترمذی، ابن خزیمہ، ابن حبان) نے ان کی اس حدیث کو صحیح قرار دیا ہے، اور ان کی متابعت بھی موجود ہے۔
وقد تقدَّم من طرق عن شعبة برقم (1534).

وبنحوه من طريق مُطرِّف بن عبد الله بن الشِّخير عن أبي ذر برقم (2477).

تفصیلِ روایت: یہ روایت شعبہ کے طریق سے نمبر (1534) پر گزر چکی ہے، اور اسی طرح مطرف بن عبداللہ کے طریق سے حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے نمبر (2477) پر مروی ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 2564 سے ماخوذ ہے۔